Saturday, 04 December, 2004, 04:43 GMT 09:43 PST
دو عشاریہ سات میٹر چوڑائی والی روبوٹ تجربہ گاہ ہیگنس نے آخری ٹیسٹ پاس کر لیے ہیں اور سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یہ خلائی گاڑی پروگرام کے مطابق چودہ جنوری کو زُحل کے چاند ٹائٹن پر اتر سکتی ہے۔
ہیگنس سات سال تک کیسینی نامی خلائی گاڑی پر سفر کر کے جولائی میں دائروں والے سیارے زُحل پر پہنچی تھی۔
ہیگنس کا خلائی گاڑی سے الگ ہونا اور پھر ٹائٹن کی بھاری فضا میں داخل ہونا اس مشن کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ ہیگنس کے سفر کے آحری مرحلے کے لیے کرسمس کا دِن طے کیا گیا ہے جب وہ خلائی گاڑی کیسینی سے الگ ہو جائے گی۔
کیسینی سے الگ ہونے کے بعد ہیگنس کو ٹائٹن کی سطح پر اترنے میں بیس دن لگیں گے۔ اس دوران اس کے تمام آلات بند ہوں گے تاکہ اس کی بیٹری کی توانائی بچائی جا سکے جس کی چاند پر اترنے کے بعد تحقیق کے لیے ضرورت پڑے گی۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق ہیگنس چودہ جنوری کو جی ایم ٹی کے مطابق نو بج کر سات منٹ پر ٹائٹن کی فضا سے ٹکرائے گی۔ اس وقت اس کی رفتار چھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہوگی۔
ٹائٹن نظام شمسی کا ایک انوکھا سیارچہ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ٹائٹن کی فضا انتہائی قابل غور ہے کیونکہ زمین کی فضا بھی کسی لحاظ سے کبھی ایسی ہی رہی ہوگی۔ لیکن ٹائٹن کا درجہ حرارت منفی 180 سنٹی گریڈ بہت کم ہے اور وہاں زندگی کے آثار ممکن تصور نہیں کیے جا رہے۔
ہیگنس ٹائٹن کے موسم کی مکمل تفصیل حاصل کرے گا۔ اس کے کیمرے سے ایک ہزار تصاویر اتاری جائیں گی۔
ابھی کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ہیگنس کو ٹائٹن کی سطح پر کیا ملے گا۔
یہ مشن امریکہ اور اٹلی کے خلائی اداروں کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔