Monday, 30 August, 2004, 04:47 GMT 09:47 PST
نائجیریا کی دس سالہ ایماد اوکنگبوہ کو بھی اپنی ہم عمر لڑکیوں کی طرح ہنسنا، کھیلنا اور اچھے جوتے پہننا پسند ہے لیکن ایک عجیب و غریب بیماری نے ایماد سے اس کی ہنسی چھین لی تھی۔
اس کا بایاں پاؤں اچانک بڑھنا شروع ہو گیا اور اتنا بڑھ گیا کہ اس کا سائز دائیں پاؤں سے دگنا ہو گیا۔
اس کی وجہ سے ایماد جوتے نہیں پہن سکتی تھی اور اس نے ہم عمر لڑکیوں کے مذاق کی وجہ سے اس نے سکول جانا ختم کر دیا تھا۔لیکن ایماد کی یہ یشانی اب ختم ہو چکی ہے ۔
برطانیہ میں کامیاب آپریشن کے بعد ایماد اوکنگبوہ کے دونوں پاؤں اب برابر ہو چکے ہیں اور وہ نارمل زندگی گذارنے کے قابل ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایماد اوکنگبوہ ہڈ یوں کی بیماری میکروڈیکٹلی میں مبتلا ہو گئی تھی لیکن اپریشن کے بعد اب وہ نارمل زندگی گذارنے کے قابل ہو گئی ہیں ۔
ڈاکٹر ڈیوڈ نے جو ایماد کو برطانیہ میں آپریشن کے لیے انتظامات کیے ، بتایا ہے کہ جب وہ نائجیریا میں کام کر رہے تھے تو ایماد اپنی بہن ساتھ اس کے پاس آئی ۔وہ سخت گھبرائی ہوئی تھی کیونکہ نائجیریا میں ڈاکٹروں نے اس کو بتایا تھا کہ اس کی ٹانگ کو کاٹنے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔
ڈاکٹر ڈیوڈ نے ایماد کے علاج کا بندوبست برطانیہ میں کیا اور اب اس کا پاؤں دوبارہ برابر ہو چکا ہے۔
ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ایماد کا پاؤں پھر شاید تھوڑا سا بڑھے لیکن اس کو دوبارہ آپریشن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
۔