Friday, 21 May, 2004, 06:32 GMT 11:32 PST
دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کا خفیہ ادارہ کبوتروں کو دشمن کے علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں میں استعمال کرنے کی تجویز پر غور کر رہا تھا۔
برطانوی انٹیلی جینس ایجنسی نے دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر ایک ’کبوتر کمیٹی‘ قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا تاکہ جانوروں کے ذریعے پیغام رسانی میں جو مہارت حاصل کی گئی ہے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔
نیشنل آرکائیوز سے جاری ہونے والے دستاویز کے مطابق وار آفس کے اٹیلی جینس سیکشن ایم آئی 14 نے متنبہ کیا تھا کہ ’کبوتروں پر تحقیق نہیں رکے گی، اگر ہم تجربات نہیں کریں گے تو دوسری طاقتیں یہ کریں گی‘۔
برطانوی خفیہ اداروں کی تاریخی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ اور جرمنی دونوں ہی پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کو بڑی کامیابی سے استعمال کر رہے تھے۔
دشمن کے کبوتروں کو دوران پرواز پکڑنے کے لیے برطانیہ کے خفیہ ادارے نے بازوں کا استعمال بھی شروع کر دیا تھا۔
![]() جاسوسی کے لئے ’سیکس‘ کو بھی استعمال کیا گیا لیکن برطانوی ایجنسی اس کے حق میں نہیں تھی |
برطانیہ کی ایک خفیہ کمیٹی نے تجویز پیش کی تھی کہ ایک ہزار کبوتروں پر مشتمل ایک ڈالی جس میں ہر کبوتر کے پروں کے ساتھ انتہائی مہلک ’بیکٹیریا‘
سے بھرے ہوئے کیپسول بندھے ہوئے ہوں دشمن کے علاقوں میں حملے کے لیے استعمال کئے جا سکتے تھے۔
تاہم انیس سو پچاس میں اس طریقے سے حملہ کو ’دقیانوسی‘ تصور کرتے ہوئے اس منصوبے کو ختم کر دیا گیا۔