آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
زہرہ اور مشتری کا ملاپ: آج نظام شمسی کے دو سیارے سرگوشی کرتے دکھائی دیں گے
- مصنف, جارجینا رنارڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز کلائمیٹ اینڈ سائنس
- وقت اشاعت
’سنیچر کو اگر آپ صحیح وقت پر آسمان کی طرف نگاہیں بلند کریں گے تو آپ یہ دیکھ سکیں گے کہ نظام شمسی کے دو سب سے روشن سیاروں کا ایک دوسرے سے ملاپ ہو رہا ہے۔
وینس (زہرہ) اور جوپیٹر (مشتری) ویسے تو لاکھوں میل دور ہیں مگر زمین سے ایسا دکھائی دے گا جیسے وہ اتنے قریب ہیں کہ عنقریب ان کی آپس میں ٹکر ہونے والی ہے۔
سیاروں کا ایسا ملاپ ہر سال ہوتا ہے لیکن رواں سال وہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ قریب دکھائی دیں گے۔
ایسا منظر دوبارہ دیکھنے کے لیے آپ کو سال 2039 تک انتظار کرنا پڑا سکتا ہے۔ صاف آسمان میں آپ یہ منظر اپنی آنکھوں سے یا دوربین کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں۔
سنیچر کے بعد آئندہ دنوں میں یہ دونوں سیارے اپنے الگ راستوں پر نکل پڑیں گے۔
سوسائٹی فار پاپولر ایسٹرانومی میں خلا کی سائنسدان پروفیسر لوسی گرین بتاتی ہیں کہ ’اس میں فلکیات کے ماہرین کو بہت تجسس ہے کیونکہ ان لوگوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ باہر نکل کر یہ منظر دیکھ سکتے ہیں۔‘
سیاروں کا ملاپ کیا ہے؟
ملاپ یا کنجکشن ایسا موقع ہے جب زمین سے دو سیاروں ایک دوسرے سے انتہائی قریب نظر آتے ہیں۔
سنیچر سے قبل گزشتہ دنوں کے دوران یہ دیکھا گیا کہ آسمان میں وینس اور جوپیٹر دونوں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درحقیقت دونوں سیاروں کے درمیان 43 کروڑ میل کا فاصلہ ہے۔ لیکن زمین سے آسمان کی طرف دیکھا جائے تو ان کی ترتیب دیکھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کا ملاپ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے:
اس منظر کو کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟
برطانیہ میں لوگوں نے اگرچہ سیاروں کے ملاپ کا منظر مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے دیکھا اور اس وقت پاکستان میں صبح کے نو بج رہے تھے اور یہاں یہ نظارہ ممکن نہیں تھا، لیکن پاکستان میں سنیچر کی رات اب بھی یہ دونوں سیارے انتہائی قریب دیکھے جا سکیں گے۔
دونوں سیارے آسمان میں نیچے دکھائی دیں گے اور پہاڑ یا عمارتیں اس منظر کو بلاک کر سکتی ہیں۔ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کسی اونچی سطح پر پہنچیں اور دو روشن سیاروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں جو ایک دوسرے کے قریب نظر آ رہے ہوں۔
پروفیسر گرین بتاتی ہیں کہ ’سیاروں کے درمیان ان کی روشنی سے فرق کیا جا سکتا ہے۔ وینس جوپیٹر سے زیادہ روشن ہے تو جب آپ اسے دیکھیں گے تو یہ کافی چمک رہا ہوگا۔ جوپیٹر کی روشنی ذرا کم ہوگی، وینس کی روشنی کے مقابلے میں تقریباً اس کا چھٹا حصہ۔‘
انھوں نے تجویز دی ہے کہ آپ کسی موبائل ایپ کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں کہ آسمان میں آپ کو کہاں دیکھنا ہے۔ اور اگر آپ کے پاس ٹیلی سکوپ ہے تو آپ جوپیٹر کی شکل یا اس کے بڑے چاند بھی دیکھ سکتے ہیں۔
زمین کے نصف کرہ سے آپ دن اور رات کے مختلف اوقات پر اس ملاپ کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ ٹیلی سکوپ سے دیکھنے پر آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ مریخ اور زحل کے ساتھ چار سیارے ایک لکیر کی شکل میں موجود ہیں۔
پروفیسر گرین کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ میں صبح کے وقت اس منظر کو دیکھیں گی۔ تاہم اگر آپ اس منظر کے لیے نہیں اٹھ پاتے تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔
’آئندہ دنوں میں دونوں سیارے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔ تو اس طرح بھی انھیں دیکھا جا سکتا ہے۔‘