کینسر کی غیر معمولی قسم سے متاثرہ خاتون آٹھ کلو گرام ٹیومر نکلوانے کی منتظر

وقت اشاعت

انگلینڈ میں کینسر کی ایک غیر معمولی قسم سے متاثرہ خاتون اس آپریشن کی منتظر ہیں جس کے ذریعے ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب بڑھتے ٹیومر یعنی کینسر زدہ ٹشوز کو نکالا جائے گا۔

دسمبر کے دوران سٹیفنی کولز نے پیٹ میں ابھری ہوئی جگہ دیکھی جس کے بعد ان میں ’لایو مایو سارکوما‘ کی تشخیص ہوئی تھی۔ مینسفیلڈ کی 39 سالہ رہائشی کے مطابق ڈاکٹر کو ابتدائی طور پر لگا تھا کہ یہ ابھری ہوئی جگہ ان میں بڑی تلی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

انھیں بتایا گیا کہ اس کے علاج کے لیے ’بہت پیچیدہ سرجری‘ درکار ہو گی لیکن وہ نوجوان اور تندرست ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحتیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

اپنی بیٹیوں کی مدد سے انھوں نے اس کی علامات کی آگاہی کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا اور فلاحی تحقیق کے لیے پیسے بھی جمع کیے۔

ان کی بیماری کی تشخیص کے بعد انھیں ایمرجنسی معائنے کے لیے بلایا گیا مگر ہسپتال میں وہ دن ان کے لیے دردناک ثابت ہوا۔

ڈاکٹروں نے ان کا الٹرا ساؤنڈ اور سی ٹی سکین کرنے کے بعد بتایا کہ وہ لایو مایو سارکوما سے متاثرہ ہیں جس کی شروعات پٹھوں کے ہموار ٹشوز سے ہوتی ہے۔

کولز کا کہنا ہے کہ یہ ٹیومر ان کی ریڑھ کی ہڈی اور کمر کی نچلی جگہ پر کافی زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ قریب آٹھ کلو گرام وزنی ہے اور اس کی پیمائش 14 سینٹی میٹر (5.5 انچ) کی گئی ہے۔ لیکن یہ ان کے جسم میں بہت زیادہ جگہ لے چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے گرد ایک تھیلی ہے۔ ٹیومر سے جو کچھ نکلتا ہے وہ اس تھیلی میں جمع ہو کر اسے بھر دیتا ہے۔

’یہ اس طرح پھیل رہا ہے اور بڑا ہو رہا ہے۔ یہ میرے اعضا پر دباؤ ڈال رہا ہے اور تمام خالی جگہوں میں داخل ہو رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ آئندہ ہفتوں کے دوران وہ اس آپریشن کی منتظر ہیں جس کے ذریعے یہ ٹیومر نکالا جائے گا۔

’مجھے بتایا گیا کہ اس بیماری میں کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کام نہیں کریں گے۔ اس سے میرے اعضا کو نقصان پہنچے گا، میری قوت مدافعت بھی متاثر ہو گی اور ٹیومر کم نہیں ہو گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’مجھے بتایا گیا ہے کہ اگر میری سرجری منصوبے کے تحت ہوتی ہے تو مجھے ہسپتال میں ایک ہفتہ گزارنا ہو گا اور اس کے بعد صحتیابی کا دورانیہ چھ سے سات ماہ تک ہو سکتا ہے۔‘

اس دوران وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی 23 اور 21 سال کی بیٹیوں کے ساتھ کچھ کرنا چاہتی ہیں تاکہ کینسر کے حوالے سے آگاہی دے سکیں۔

انھوں نے سنیچر کو مینسفیلڈ میں ایک تقریب منعقد کی ہے۔ انھیں امید ہے کہ وہ فلاحی تنظیم ’سارکوما یو کے‘ کے لیے ایک ہزار پاؤنڈز جمع کر سکیں گی۔