آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انٹرسٹیلر پروب: آئندہ نسلوں کے لیے خلائی مشن
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی سائنس
- وقت اشاعت
ذرا ایک ایسے پراجیکٹ کا تصور کریں جس کے بارے میں آپ جانتے ہوں کہ آپ اسے پایۂ تکمیل کو پہنچتے نہیں دیکھ سکیں گے۔ کیا آپ اپنے اندر ایسے کسی منصوبے کا حصہ بننے کا حوصلہ پاتے ہیں؟
امریکہ میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی اپلائڈ فزکس لیبارٹری (جے ایچ یو اے پی ایل) سے وابستہ ڈاکٹر رالف میکنٹ کا جواب تھا: ’بالکل‘۔
میکنٹ اور ان کے ساتھیوں نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ایک انٹرسٹیلر پروب (بین النجوم مشن) بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے جو ستاروں کے درمیان واقع خلا میں رہ کر تحقیق کرے گا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے برسوں پہلے خلا میں بھیجے گئے وائجر مشن اب بھی اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر میکنٹ کا پروب ان سے کہیں آگے اور سرعت سے سفر کرے گا اور توقع ہے کہ یہ زمین کو چھوڑ کر جانے 50 سے 100 برس بعد تک کام کرتا رہے گا۔
وہ کہتے ہیں: ’ذرا سوچیے کہ یہ سنہ 2036 میں لانچ ہوتا ہے اور اس کا فرضی مشن 2086 میں اختتام کو پہنچتا ہے۔ اس وقت میری عمر 130 برس ہو گی۔ مجھے اس کی فکر نہیں ہے۔ ایسی چیزیں آپ دوسروں کو سونپ کر جاتے ہیں۔ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر آپ فوری تسکین چاہتے ہیں تو خلا نوردی سے دور ہی رہیں۔‘
وائجر 1 اور 2 نے 2010 کی دہائی میں اس وقت تاریخ رقم کی جب وہ ہمارے سورج کے گرد موجود گرم گیس کے بلبلے، ہیلیوسفیئر، کی حدود سے باہر نکل کر انٹرسٹیلر میڈیم (بین النجوم واسطہ) میں داخل ہوئے۔ یہ خلا کا وہ حصہ ہے جو ذرّات، گرد اور ستاروں سے پیدا ہونے والی مقناطیسی لہروں سے بھرا ہوا ہے۔
چالیس سال سے بھی زیادہ عرصے پہلے روانہ ہونے والا وائجر 1 اب تک 23 ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکا ہے۔ یہ فاصلہ زمین اور سورج کے فاصلہ کا 155 گنا ہے اور سائنسدانوں نے اسے ایسٹرونومیکل یونٹ یعنی فلکیاتی اکائی قرار دیا ہے تاکہ گننے میں آسانی رہے۔
وائجرز نے ہمیں کہکشاں کے ماحول، جس کا حصہ سورج بھی ہے، نیا عمل دیا ہے، مگر یہ ان کے بھیجے جانے کا بنیادی مقصد تھا ہی نہیں۔ ان کا اصل کام تو مشتری، زحل، نیپچون اور یورینس سیاروں کا جائزہ لینا تھا، اور یہ کام انھوں نے بہت شاندار طریقے سے سر انجام دیا۔ اس کے بعد انھوں نے ہمیں جو معلومات فراہم کیں وہ تو ایک بونس ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میکنٹ کی ٹیم اس مقصد کو پلٹ دینا چاہتی ہے۔
جے ایچ یو اے پی ایل کی الینا پرووُرنیکووا کہتی، ’وائجرز پر لگے آلات سیاروں کو جاننے کے لیے بنائے گئے تھے نہ کہ یہ سمجھنے کے لیے کہ ہیلیوسفیئر کے کنارے پر کیا ہو رہا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ مجوزہ انٹرسٹیلر پروب بنایا ہی اس مقصد کے لیے جائے گا کہ وہ ستاروں کے درمیان موجود خلا کے بارے میں تحقیق کرے۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ مشن کسی ستارے پر تحقیق کے لیے نہیں ہے۔ ویسے بھی قریب ترین ستاروں تک کسی فعال پروب کی رسائی موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ مگر مجوزہ خلائی گاڑی ستاروں کے درمیان موجود خلا میں سفر جاری رکھے گی۔
خیال ہے کہ یہ سپیس کرافٹ یا خلائی گاڑی 850 کلوگرام وزنی ہوگی اور اس پر لگے سینسر خلا کے اندر موجود چارجڈ اور نیوٹرل پارٹیکلز، مقناطیسی میدان اور گرد کی پیمائش کریں گے۔
اس پروب کو 2036 میں روانہ کیے جانے کی توقع ہے اور اسے ایک سپر راکٹ کے ذریعے اپنے سفر پر بھیجا جائے گی تاکہ اس کی ولاسیٹی (رفتار) بہت تیز ہو۔
یہ خلائی گاڑی محض 6 گھنٹے اور 50 منٹ کے اندر چاند کے مدار کے قریب سے نکل کر سات ماہ میں سیارہ مشتری کے پاس سے ہوتی ہوئی آگے بڑھ جائے گی۔ اس مقام پر وہ ایک ایسا زاویہ اختیار کرے گی جس سے اس کی رفتار چھ سے سات ایسٹرانامیکل یونٹس فی سال ہو جائے گی۔ یعنی وہ ہر 12 ماہ کے دوران ایک ارب کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرے گی۔
اس مشن کی عمر وائجرز سے زیادہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وائجرز کی بیٹریاں اب کمزور پڑتی جا رہی ہیں اس لیے اب وہ اپنے زیادہ اہم آلات کو توانائی فراہم کر رہے ہیں۔ مگر ناسا میں اب ایسی بیٹریاں بن رہی ہیں جو دیر تک توانائی فراہم کریں گی۔ اس لیے توقع ہے کہ یہ انٹرسٹیلر پروب زمین چھوڑنے کے سو برس بعد بھی فعال ہوگا اور ایک کھرب کلومیٹر سے بھی زیادہ دوری سے زمین پر معلومات بھیجتا رہے گا۔
اس منصوبے سے وابستہ ایلس کوکوروس کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سائنسدانوں کے خوابوں کو انجنئرنگ کی مدد سے تعبیر دینے کا بِیڑا اٹھایا ہے۔‘
اگر اس منصوبے کے لیے درکار فنڈنگ مل جاتی ہے تو ممکن ہے کہ یہ پروب اپنے سفر کے دوران نظام شمسی کو چھوڑنے سے پہلے ہمیں کسی دلچسپ چیز کا پتا دیدے۔ شاید یہ پلوٹو کے پاس سے گزرے اور ہمیں 2015 میں نیو ہورائزن مشن کے بعد ایک مرتبہ پھر اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ملے، یا شاید ہم ان برفیلے اجسام سے مل پائیں جو پلوٹو ہی کے مدار میں محوِ گردش ہیں۔
پراجیکٹ سائنٹِسٹ پونٹس برینڈ کہتے ہیں کہ ’ہیلیوسفیئر سے پرے بھی بہت تحقیق کرنا باقی ہے۔ کیونکہ وائجرز نے ہمیں جو معلومات فراہم کی ہیں اس سے سورج کے بلبلے کے بارے میں نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔
’چار عشاریہ چھ ارب سال پہلے ہمارا نظام شمسی بننا شروع ہوا اور اس کے ساتھ ہی یہ مقناطیسی بلبلہ بھی بنا جو کہکشاں میں سفر کے دوران اب ہمیں گرد اور پلازما سے بچاتا ہے۔
’انٹرسٹیلر پروب ہمیں نہ صرف موجودہ حالت کو سمجھنے میں بلکہ یہ جاننے میں مدد دے گا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، اس سے ارتقا کا عمل کس طرح سے متاثر ہوا ہے اور ہماری اگلی منزل کہاں ہے۔ زیادہ لوگ نہیں جانتے کہ کہ ہم اپنے موجودہ انٹرسٹیلر بادل کو جس سے یہ ہیلیوسفیئر 60 ہزار سال سے گزر رہا ہے چھوڑنے والے ہیں۔ ہم بالکل ہی ایک نئے خطے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘
انٹرسٹیلر پروب کے لیے درکار 1.6 ارب ڈالر ملنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ میں سولر اور سپیس فزکس کے سائنسدانوں کی ترجیحات کیا ہیں اور ان کے لیے کن دوسرے موضوعات پر تحقیق اہم ہے۔
ہو سکتا ہے کہ وہ سوچیں کہ ان منصوبوں پر رقم خرچ کرنا زیادہ اچھا ہے زمین کے قریب سورج کے اثر کے بارے میں تحقیق کریں۔ اس وقت تو وہ اس بات پر خوش ہیں کہ پارکر سولر پروب سورج کی بیرونی فضا کے پاس سے گزرا ہے جو سورج کی سطح سے صرف 8 ملین کلومیٹر دور ہے۔