آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیارے زہرہ کے بادلوں کی ’خشکی‘ نے وہاں زندگی کے آثار کی موجودگی کی امید مبہم کیوں کر دی؟
- مصنف, جوناتھن ایموس
- عہدہ, بی بی سی سائنس رپورٹر
- وقت اشاعت
یہ ممکن نہیں ہے کہ سیارے وینس یعنی زہرہ کے بادلوں میں زندگی کے کوئی آثار ہوں۔
برطانیہ میں بلفاسٹ یونیورسٹی کی ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ بادل اس قدر خشک ہیں کہ یہاں ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔
گذشتہ سال اس حوالے سے ایک نئی امید پیدا ہوئی تھی کہ سیارے زہرہ کے ماحول میں مائیکرو آرگنزمز ہو سکتے ہیں کیونکہ وہاں پر فوسفین گیس کی کافی مقدار پائی گئی تھی۔
اس وقت یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس گیس کی مقدار صرف سیارے کی اپنی جیولوجیکل حرکات پر مبنی نہیں ہو سکتی اس لیے ممکن ہے کہ وہاں کوئی اور زندہ چیز ممکن ہو تاہم بیلفاسٹ یونیورسٹی کی اس تازہ تحقیق نے اس خیال کو رد کر دیا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے اس بات کا جائزہ لیا کہ زہرہ کے گرد بادلوں میں حالات کیا ہیں اور پھر زمین پر موجود جانداروں کا جائزہ لیا کہ کیا ان میں سے کوئی اس ماحول میں زندہ رہ سکتا ہے۔ پتا چلا کہ یہ بادل زیادہ تر سلفیورک تیزاب کے بنے ہیں اور ان میں ذرا سا پانی ہے۔
تجزیے کا نتیجہ یہ تھا کہ ایسٹریموفائل یعنی وہ جاندار چیزیں جو انتہائی شدید ماحول میں زندہ رہ سکتی ہیں وہ بھی اس ماحول میں نہیں رہ پائیں گی۔
محقق ڈاکٹر جان ہیلز ورتھ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جس مقدار میں وہاں پانی ہے وہ نہ صرف زمین کے سخت ترین جانداروں کے لیے درکار پانی سے کم ہے بلکہ اس سے سو گنا کم ہے۔‘
تو کیا اس سے سیارے زہرہ پر زندگی کی امید مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ظاہر ہے گذشتہ سال جب ایک اور ٹیم کو فوسفین گیس کی زیادہ مقدار ملی تھی تو اس سے بہت دلچسپی بڑھ گئی تھی۔
زمین پر فوسفین زندگی کے آثار سے جوڑی جاتی ہے جو کہ ایسے مائیکروبز سے منسلک ہے جو کہ جانوروں کے پیٹ میں یا آکسیجن کی کمی والے ماحول جیسے کہ گندے تالابوں میں پائے جاتے ہیں۔
یہ گیس فیکٹریوں میں بھی پیدا کی جا سکتی ہے مگر زہرہ پر تو کوئی فیکٹریاں نہیں ہیں۔ اسی لیے اس کی زیادہ مقدار ہونے پر سوال اٹھایا گیا تھا۔
ستمبر میں کارڈف یونیورسٹی کی پروفیسر جین گریوز نے زہرہ پر زندگی کے امکان کو پیش کیا تھا اور دیگر سائنسدانوں سے کہا تھا کہ وہ اسے ثابت یا رد کرنے میں مدد کریں۔
یہ بھی پڑھیے
ابتدا میں کچھ سائنسدانوں نے فوسفین گیس کے مشاہدے پر ہی سوال اٹھائے تھے۔ مگر اس کو رد کرنے کے یہ تازہ ترین شواہد فلکیات نہیں بلکہ بائیوکمیسٹری کے شعبے سے آئے ہیں۔
پروفیسر گریوز نے اس تازہ ترین تحقیق کی تعریف کی ہے اور اسے بہترین سائنسی کام قرار دیا ہے تاہم ان کا اب بھی ماننا ہے کہ زہرہ کے بادلوں میں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس کے بارے میں تفصیل سے بات چیت کی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ زہرہ کے ماحول انتہائی خشک ہے مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس میں مختلف اجزا کس قدر محلول ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایک اور سائنسدان پال رمر ابھی ایک تحقیق شائع کرنے والے ہیں کہ بادلوں کے کچھ قطروں میں پانی کی مقدار اس قدر ہو سکتی ہے کہ زندگی کے آثار موجود ہوں۔
انھوں نے الٹراوائلٹ تصاویر میں کالی دھاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مائیکروبز کی کولونیز ہوں جو کہ بنتی ہیں اور پھر ختم ہو جاتی ہیں۔
ناسا کے محقق ڈاکٹر کرس مکے زمین کے علاوہ زندگی کے آثار پر تحقیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ زہرہ پر زندگی کے آثار ہونا ایک بہت دلچسپ امکان ہے تاہم جدید ترین تحقیق کے ماضی کی ریڈنگز بھی یہی کہتی ہیں کہ اس بات کا امکان انتہائی کم ہے۔
ادھر قدرے زیادہ امکان مشتری کے بادلوں میں زندگی کے آثار کا ہے تاہم اسے ثابت کرنا زیادہ مشکل بھی ہے۔
تازہ ترین تحقیق کے مطابق وہاں پر درجہ حرارت اور پانی کی موجودگی اتنی گہرائی پر ملتی ہے جتنی زمین پر سمندر کی سطح سے پانچ گنا زیادہ دباؤ ہو۔ مگر یہ سب زندگی کے لیے درکار دیگر چیزوں جیسے کہ خوراک کے بارے میں کوئی شواہد نہیں دیتی۔