گالی دینے میں مزا کیوں آتا ہے؟

    • مصنف, آنند جگاتیا اور کیتھی ایڈورڈز
    • عہدہ, کراؤڈ سائنس، بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت

گالی دینا بری بات ہے لیکن ہمیں ایسا کرنے میں مزا کیوں آتا ہے۔

کیا اس لیے کہ ہم قدرے شریر ہونے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں یا پھر ہمارے دماغ اور جسم میں گالی دیتے وقت کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے؟

ایسا ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے، ہمیں ٹھوکر لگ جائے یا ٹریفک میں زخمی ہو جائیں یا چائے چھلک پڑے تو ہمارے منہ سے یکایک غیر شائستہ الفاظ نکل پڑتے ہیں۔

جبلی طور پر ہم ایسے کسی واقعے پر کچھ کہہ دیتے ہیں اور عام طور پر منہ سے نکلنے والے یہ مغلظات ہمیں تسکین دیتے ہیں اور کسی جادو کی طرح ہمیں ایک گونہ فوری سکون مل جاتا ہے۔

ٹھیک ہے ہم میں سے کچھ دوسروں کے مقابلے میں مغلظات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور بعض اوقات لوگ بہت زیادہ خوش ہونے پر بھی ایسا کر سکتے ہیں۔

لیکن آپ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر ثقافت اور ہر زبان میں یہ بات پائی جاتی ہے۔۔۔ اور ضروری نہیں کہ یہ انسانوں کے ساتھ ہی مخصوص ہو۔

تو گالی گلوچ کے پس پشت کیا سائنس ہے؟

آخر مغلظات ہیں کیا؟

اس مضمون کی ماہر اور 'سویرنگ از گڈ فار یو' کی مصنفہ ڈاکٹر ایما برن کہتی ہیں کہ 'مغلظات کی صحیح وضاحت مشکل ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ یہ اس قسم کی زبان ہے جسے ہم صدمے، حیرت، خوشی، مذاق یا جارحیت کے وقت استعمال کرتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ ایک ثقافتی معاملہ ہے جس کا ادارک کسی مخصوص سماج، لسانی گروہ، معاشرے، ملک یا مذہب کے اندر ہی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر برن وضاحت کرتی ہیں کہ 'ہم اتفاق رائے سے فیصلہ کرتے ہیں کہ گالی کیا ہے اور اس اتفاق رائے کا تعلق بہت حد تک اس بات سے ہوتا ہے کہ کسی خاص ثقافت میں کونسی باتیں منع ہیں۔ بعض ثقافتوں میں جسم کے اعضا کے ذکر سے جذبات مجروح ہوتے ہیں، بعض جگہ جانوروں کے نام سے، بعض جگہ بیماریوں کے ذکر سے اور بعض کا تعلق کسی جسمانی فعل سے ہوتا ہے۔

’مگر گالی گلوچ کا ایک بنیادی عنصر ہے: جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس معاشرے میں پائی جانے والے ممنوعات کو کام میں لائیں۔‘

ڈاکٹر برن کہتی ہیں کہ ’یہ زبان کی وہ قسم ہے جو آپ خاص مواقع پر استعمال نہیں کریں گے، جیسا کہ جاب انٹرویو، یا اپنے ممکنہ ساس سسر سے ہونے والی پہلی ملاقات کے دوران۔‘

گالی دی ہی کیوں جائے؟

گیڈی، جو بی بی سی کی عالمی سروس کے مستقل سامع ہیں، کہتے ہیں کہ ’جب آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں یا کوئی غیر متوقع بات ہو جائے تو بے اختیار آپ کی زبانی پر گالی آ جاتی ہے۔ اور اس سے آپ کو ایک طرح کی طمانیت بھی ملتی ہے۔‘

ایک اور سامع، میکائیل، کا کہنا ہے کہ ’خوشی، حیرت، افسوس، درد اور غصے میں میرے منہ سے گالی نکل جاتی ہے۔ اور اس سے میرے جذبات کی بہترین ترجمانی ہو جاتی ہے۔‘

کلارا کہتی ہیں، ’میں زیادہ گالی نہیں بکتی۔ میرے خیال میں اس سے اس کا تیکھا پن زائل ہو جاتا ہے۔ آپ اسے خاص موقع کے لیے بچا کر رکھانا چاہتے ہیں۔‘

یقیناً ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کبھی گالی نہیں دیتے، مگر ہم میں سے زیادہ تر اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ان مغلظات سے ہمیں اپنے اندر ایک قسم کی توانائی کا احساس ہونے لگتا ہے۔

ڈاکٹر برن کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اگر فالج کی وجہ سے کسی کے دماغ کا بایاں حصہ مفلوج ہو جائے اور وہ بولنے چالنے سے قاصر ہو جائے تب بھی وہ گالی دے سکتا ہے۔

’ایسا لگتا ہے کہ ہم زبان کے بعض خاص اجزا سے بہت مضبوط جذباتی رشتہ قائم کر لیتے ہیں اور وہ الفاظ دماغ کے کسی دوسرے خانے میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ کسی شخص کے دماغ کا وہ حصہ نکالا جا سکتا ہے جہاں زبان محفوظ ہے اور اسے بولنے کی اُس صلاحیت سے محروم کیا جا سکتا ہے جو ایک باقاعدہ نظم کے تحت کام کرتی ہے، جیسا کہ اس وقت میں کر رہی ہوں، مگر وہ پھر بھی بے ساختہ طور پر گالی دے سکے گا۔‘

ڈاکٹر برن وضاحت کرتی ہیں کہ ’گالی گلوچ کا تعلق ہمارے جذبات سے اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ گالی دینے کے لیے درکار الفاظ ہمارے عضلات میں کئی مقامات پر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح بوقت ضرورت ہمارے پاس ان کا بیک اپ موجود رہتا ہے۔‘

کیا گالی کا متبادل لفظ بھی ویسا ہی اثر رکھتا ہے؟

ڈاکٹر رچرڈ سٹیو کِیلے یونیورسٹی میں نفسیات کے استاد اور وہاں قائم ’سویئر لیب‘ یعنی تجربگاہِ دشنام کے سربراہ ہیں جہاں گالم گلوچ کے موضوع پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ درد کی کیفیت میں گالی دینے سے کیسے آرام ملتا ہے۔‘

یہ جانچنے کے لیے کہ آیا شدید حالت میں گالی دینے سے کوئی مدد ملتی ہے ایک تجربہ کیا جاتا ہے جس میں آپ کا ہاتھ برف سے بھری بالٹی میں ڈال دیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ اسے کتنی دیر تک برداشت کر سکتے ہیں۔ یہ تجربہ ایک شخص پر دو مرتبہ کیا جاتا ہے، ایک بار اسے گالی دینے کو کہا جاتا ہے اور دوسری مرتبہ گالی کے مترادف الفاظ ادا کرنے کو کہا جاتا ہے۔

ماہرین نے اخذ کیا کہ اس تجربے کے دوران جب لوگوں نے واقعی گالیاں بکیں تو وہ اپنا ہاتھ دیر تک برف کے اندر رکھ سکے، جبکہ متبادل الفاظ استعمال کرتے وقت اس تکلیف کو سہنے کی ان کی قوت کم ہوگئی۔ ان کے مطابق ایسا اس لیے ہے کہ متبادل الفاظ کا ہمارے جذبات سے وہ رشتہ نہیں ہے جو حقیقی گالیوں کا ہوتا ہے۔

مگر ایسا کیوں ہے؟

ڈاکٹر سٹیو کا کہنا ہے کہ ’عام الفاظ کے مقابلے میں گالی دیتے وقت ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ یہ بات گالیوں سے ہمارے جذباتی تعلق کو ظاہر کرتی ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ گالیاں ایک طرح کی جذباتی زبان ہے۔‘

ڈاکٹر سٹیو اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہمارا مفروضہ یہ ہے کہ تکلیف کی حالت میں جب لوگ گالی بکتے ہیں تو دراصل وہ اپنی قوت برداشت کی سطح بلند کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کیفیت کو ہم دانستہ دافع درد کا عمل کہتے ہیں، یعنی آپ درد سے بے حس ہو جاتے ہیں، جو دراصل لڑنے یا راہ فرار اختیار کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔‘

ایک اور سامع، کولِن، کا کہنا ہے کہ ’گالی دینا میرا معمول نہیں ہے۔ مگر چند برس قبل میں ایک پہاڑ پر پھنس گیا تھا۔ میرا کندھا اتر گیا تھا اور مجھے سلیج یعنی برف گاڑی پر نیچے اتارا گیا۔ جب گاڑی اچھلتی تو مجھے بہت تکلیف ہوتی۔ اس وقت میرے بس میں گالیاں دینا ہی تھا۔ کوئی دوسرا لفظ میرے کام نہیں آیا۔‘

دوسری زبانوں میں گالم گلوچ

کیا گالی گلوچ ہر ثقافت میں ایک ہی طرح کا اثر رکھتی ہے؟

کلارا کہتی ہیں کہ ’سپینش زبان میں اختراع کی بہت گنجائش ہے کیونکہ جب کوئی انتہائی غصّے میں گالیاں دے رہا ہوتا ہے تو وہ پورے جملے ادا کر رہا ہوتا ہے جس میں فائل، فعل اور مفعول تینوں پائے جاتے ہیں، اور ان گالیوں کو ایک کہانی کی طرح بیان کیا جاتا ہے۔‘

میکائیل کے بقول روسی زبان گالیاں بکنے کے لیے بہترین ہے۔ اس میں اتنے زیادہ توہین آمیز الفاظ ہیں کہ کوئی بھی بات گالی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ ’ہمارے ہاں گالی دینے کا رواج ہمارے ادب کا حصہ ہے۔ اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی روسی ہو اور وہ گالی نہ دے۔‘

جیکولین کا کہنا ہے کہ ’چین کی سرکاری زبان ماندرین کی گالیاں خاصی دلچسپ ہیں کیونکہ گالی دینے والا 18 پیڑیوں تک آپ کے آباؤ اجداد کے ساتھ کچھ نازیبا کرنے کا عزم ظاہر کرے گا۔ یعنی وہ کہے گا کہ میں آپ کی ماں، دادی نانی اور آپ کی پچھلی 18 نسلوں کے ساتھ کروں گا۔ میں اپنے والد سے پوچھتی ہوں کہ اس میں، میں کہاں گئی؟‘

ایک چینی گالی میں کسی کو کچھوے کے انڈے سے تشبیہ دی جاتی ہے، جو حرام زادہ کہنے کے مترادف ہے کیونکہ مادہ کچھوے کا کوئی ایک ساتھی نہیں ہوتا۔

دنیا بھر میں گالم گلوچ کے لیے مختلف الفاظ اور تراکیب استعمال میں لائی جاتی ہیں، مگر یہ ہر انسانی ثقافت میں پائی جاتی ہے۔

کیا جانور بھی گالی بکتے ہیں؟

مگر گالیاں صرف انسان ہی نہیں بکتے۔ ڈاکٹر ایما برن کہتی کہ چمپنزی یا افریقی بن مانسوں پر بہت سی تحقیق ہوئی ہے جس کے لیے ان کی ایک ساتھ پرورش کی گئی تاکہ وہ ایک بڑے خاندان کی شکل میں رہ سکیں۔

ڈاکٹر برن کہتی ہیں کہ ’پرائمیٹ یا بندروں کے امریکی ماہرین ڈیبرا اور راجر فُٹس نے ان چیمپنزیوں کے سامنے اشاروں کی زبان میں بات کی۔ اور انھیں ہر چیز کے اشارے سکھائے۔‘

جنگل میں تو چیمپنزی ایک دوسرے پر اپنا پاخانہ پھینک کر بات کرتے ہیں، مگر ان ماہرین نے انھیں اس حرکت سے باز رکھنے کے لیے انھیں پوٹی ٹریننگ دی۔

برن کا کہنا ہے کہ ’جب یہ بن مانس اس تربیت کے عادی ہوگئے تو انھوں نے فضلہ پھینکنے کے اظہار کے لیے اشاروں کی زبان استعمال کی، بالکل ویسے ہی جیسا کہ انگریزی بولنے والے اپنی آنتوں کی حرکت الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

’وہ (چیمپنزی) ان اشاروں کو اپنے غصّے، مایوسی اور احتجاج کے اظہار کے لیے، اور دوسرے بن مانسوں کو ’ڈرٹی منکی‘ یعنی گندا بندر کہنے کے لیے، جو کہ ان کے لیے بہت بری گالی ہے، استعمال کرنے لگے۔‘

نہ صرف یہ بلکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’وہ پاخانے کے بارے میں لطیفے بنانے کے لیے بھی اشاروں میں بات کرنے لگے۔‘

برن کہتی ہیں کہ ’راجر اور ڈیبرا فُٹس ایک دن تجربہ گاہ سے گزر رہے تھے تو انھوں نے دیکھا کہ یہ چیمپنزی اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی ٹھوڑیوں کو اتنی زور سے پیٹ (کسی کو گندا کہنے کا اشارہ) رہے تھے کہ ان کے دانت آپس میں بجنے لگے۔‘

تو بجائے ایک دوسرے پر فضلہ اچھالنے کے ان بن مانسوں نے فضلہ اچھالنے کا اشارہ سیکھ لیا تھا اور وہ اسے استعمال کر رہے تھے۔

ڈاکٹر برن کا کہنا ہے کہ ’اپنی کتاب کے لیے میری تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو غالباً یہ ہی تھا کہ جیسے ہی آپ اخلاقی لحاظ سے ممنوع باتوں کے اظہار کا طریقہ سیکھے لیتے ہیں تو اسی نقطے سے گالیاں جنم لے سکتی ہیں۔‘