آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اگلے دس ہزار برسوں کے لیے جوہری فضلے کے قبرستانوں کا انتباہی نظام کیسے وضع کیا جائے؟
- مصنف, مارک پائیسنگ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
- وقت اشاعت
زیرِ زمین دفن جوہری فُضلہ اگلے ہزاروں برسوں تک کرہِ ارض کے لیے زہر رہے گا۔ تو کیا آج کے دور میں انتباہ دینے والاایسا نظام کیسے تیار کیا جا سکتا ہے جو مستقبل بعید کے دور کے لوگوں کو سمجھ آسکے؟
اس متن میں درج ہے کہ 'یہ جگہ ہمارے لیے باعثِ شرف نہیں ہے۔ یہاں پر کوئی عظیم المرتبت ہستی دفن نہیں ہے۔ کوئی قابلِ قدر شہ نہیں ہے۔ یہاں جو موجود ہے وہ خطرناک اور ہمارے لیے قابلِ نفرت ہے۔ یہ پیغام ایک خطرے کا انتباہ ہے۔'
یہ ایک ایسا پیغام لگتا ہے جو آپ شاید کسی قدیم قبرستان کے داخلی دروازے کے باہر بھی نہ دیکھیں۔ لیکن اس پیغام کا مقصد ایک ایسے مقام کی نشاندہی کرنا ہے جو نیو میکسیکو میں سنہ 2000 میں تعمیر کیا جا چکا ہے۔
یہ زیرِ زمین 2000 فٹ گہرائی میں مضبوط چٹانوں کے درمیان 'دی ویسٹ آئیسولیشن پائیلٹ پراجیکٹ (ڈبلیو آئی پی پی)' کے نام سے تعمیر کیا جا چکا ہے۔
سرنگوں اور غاروں کا یہ سلسلہ امریکی افواج کے سب سے خطرناک جوہری فضلے کو محفوظ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، یعنی جوہری فضلے کا قبرستان۔
یہ فُضلہ تین لاکھ برسوں تک مہلک رہے گا جو کہ موجودہ شکل کے انسان کی اس کرہ ارض پر کل زندگی سے کہیں زیادہ وقت بنتا ہے۔
اب تک دنیا بھر میں ڈبلیو آئی پی پی ایسا واحد لائسنس شدہ قبرستان ہے جہاں جوہری فضلے کو دفنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح کی ایک جگہ فن لینڈ میں اسی دہائی میں کسی وقت کام شروع کردے گی۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب یہ جگہ اگلے دس سے بیس برسوں میں جوہری فضلے سے بھر جائے گی تو یہ زیرِ زمین غار اور سرنگیں اندر ہی منہدم ہوجائیں گی اور ان کو مستقلاً سربمہر کر کے سیمنٹ اور مٹّی سے بند کردیا جائے گا۔
اس جگہ کے قریب اس کی نشاندہی کے لیے قائم پھیلی ہوئی عمارتیں منہدم کر کے صفحہِ ہستی سے مٹا دی جائیں گی۔
اس کے بعد کا منصوبہ یہ ہے کہ اس مقام پر 25 فٹ اونچا سنگِ خارا (گرےنائیٹ) سے بنا ایک کالم کی شکل کا مینار تعمیر کیا جائے گا جو اس چار مربع میل کے علاقے کی نشاندہی کرے گا۔
اس علاقے کے نیچے 33 فٹ اونچی اور 100 فٹ چوڑے حصے میں مٹی ڈالی گئی ہے جو اس دفن شدہ فضلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ پھر اس مٹی کے مزید نیجے سنگِ خارا کے کالم ایک چوکور شکل میں نصب ہوں گے۔
اِس یادگار کے مرکز میں درج ہوگا 'یہاں داخلہ ممنوع ہے' جس کے ساتھ اس جگہ کے بارے میں معلومات تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہوں گی۔ فرض کریں کہ یہ معلومات بڑھنے کا قابل نہ رہیں، تو اسی طرح کا ایک اور معلوماتی پتھر مزید 20فٹ گہرائی میں دفن کیا گیا ہوگا۔
ڈبلیو آئی پی پی کے بارے میں تفصیلی معلومات دنیا بھر میں مخصوص قسم کے کاغذوں پر درج کر کے آرکائیوز میں محفوظ کرلی جائیں گی اور یہ ہدایت خاص طور پر دی جائے گی کہ ان معلومات کو دس ہزار برس تک رکھنا ہے۔ یہ وقت بس ایک اندازے سے طے کرکے اس کے لائیسنس میں درج کر دیا گیا ہے۔
جوہری فضلے کو زیرِ زمین بہت گہرائی میں دفنایا جاتا ہے۔
ڈبلیو آئی پی پی کے لیے زمین کو اس طرح مخصوص کیا جانا ایک سائنس فِکشن سے متاثر شدہ سوچ کا نتیجہ ہے۔
جوہری سائنس کے ماہرین، انجینئیرز، علوم بشریات کے ماہرین، سائیسن فِکشن کا مصنفین، فنکار اور دیگر اہلِ فکر اس موضوع پر سوچ بچار کے لیے جمع ہوئے کہ ہمارے بعد کے مستقبل کے انسان کو کس طرح ہمارے دور کی ایک مہلک وراثت کے بارے میں خبردار کیا جائے۔
اس جگہ کو سیمنٹ سے بنے گھنے خاردار تاروں سے ڈھانپنے کی تجویز کو مسترد کردیا گیا تھا، اور نہ یہ آئیڈیا قبول کیا گیا کے اس جگہ پر ایک ’جوہری پجاری‘ بنا دیا جائے جو قصوں اور رسومات کے ذریعے اس علاقے کے بارے میں نسل در نسل خوف کا احساس پیدا کرتا رہے۔
ماہرِ لسانیات ٹامس سی بویک نے جوہری پجاری کی اصطلاح سب سے پہلے سنہ 1981 میں استعمال کی تھی۔
آکسفورڈشائر شہر کے ایک جدید کمرے کی روشنی میں نیو میکسیکو کا صحرا اور جوہری پجاری پر گفتگو ایک بہت دُور کا خیال لگتا ہے۔
لیکن ظاہری فاصلے کی نسبت یہ درحقیقت بہت ہی قریبی معاملہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کا کلہم شہر میں سابق ہوائی اڈہ برطانیہ کے اٹامک انرجی اتھارٹی کی تنصیبات اور 'کلہم سینٹر فار فیوژن انرجی' (برطانیہ کی جوہری فیوژن انریجی کی لبارٹری) یہیں پر قائم تھیں۔
اور پھر یورپ کا سب سے پہلا جوہری ری ایکٹر جس نے سنہ 1947 میں ہار ویل کے ایک اور ہوائی اڈے پر کام کرنا شروع کیا تھا، وہ بھی وہیں قریب واقعہ تھا۔ یہیں پر برطانیہ کا ریڈیو ایکٹو ویسٹ مینیجمنٹ لمیٹڈ (آر ڈبلیو ایم) کا ہیڈکواٹر موجود ہے۔
اس کام کا آغاز کئی تجاویز کی وجہ سے کیا گیا تاکہ مستقبل کے انسان کو تحقیق اور معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے قابل بنایا جائے جن کے لیے لائیبریریاں، ٹائم کیپسول اور ٹھوس سنگِ میل قائم کیے جائیں
میری میز کے دوسری جانب دو ایسے ماہرین بیٹھے تھے جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ بڑے بڑے مسائل پر غور و فکر کریں۔
پروفیسر چیری ٹویڈ آر ڈبلیو ایم کے چیف سائینٹیفک ایڈوائیزر ہیں، اور اس مضمون کے ماہر جیمز پیئرسن بھی اسی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔
ان کا یہ کام ہے کہ وہ جوہری فضلے کو دفنانے کے لیے برطانیہ کا اپنے جوہری قبرستان بنانے کے بارے میں غور و فکر کریں، یہاں ایک جگہ ہو گی جس کی منصوبہ بندی، تعمیر، اس کو بھرنے اور پھر اس کو مستقلاً بند کرنے میں 200 برس لگیں گے۔
دنیا بھر میں اس جیسے دیگر اداروں کی طرح آر ڈبلیبو ایم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی مجوزہ جگہ کی نشاندہی کے لیے سنگِ میل بنانے کی تجویز پر بھی غور کریں۔
ہمارے اوپر ویڈیو سکرین پر تاریخی مقام سٹون ہِنج کے قریبی قصبے سِلبری ہِل کے ایک قدیمی تاریخ کے ٹیلے کی تصویر ہے۔
جیمز پیئرسن کا کہنا ہے کہ 'یہ تقریباً تین لاکھ چالیس ہزار کیوبک میٹر بڑا ٹیلہ ہے۔ یہ چار ہزار برس سے زیادہ پرانا ٹیلہ ہے۔ اس کی تعمیر کے مقصد کے بارے میں بہت زیادہ بحث ہوتی ہے، لیکن فی الحال یہ مقصد کسی کو معلوم نہیں ہے۔ یہ ایک قدیم سنگِ میل ہے؟ کیا ہم اس سے بہت کچھ بچا سکتے ہیں؟ کیا ہمیں ایسا کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے؟'
امریکی ریاست نیویڈا کے شہر لاس ویگاس می مجوزہ یُکّا جوہری قبرستان کی تعمیر کے سلسلے میں ایسے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے سنہ 1981 میں 'ہیومن اِنٹرفیرنس ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی۔
اس ٹاسک فورس کے سر جوہری علمِ علامات تیار کرنے کا سہرا باندھا جاتا ہے۔
اب پیرس میں قائم نیوکلیئر انرجی ایجنسی ِ(این ای اے) نے اس ٹاسک فورس جو کہ اب کالعدم ہوچکی ہے، کا کام آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے، جس کے لیے انھوں نے ریکارڈ کو محفوظ، نسل در نسل علوم اور یاداشتوں کو محفوظ کرنے کی کوشش (پریزرویشن آف ریکارڈ، نالج اینڈ میموری اکراس جینیریشنز اِنیشی ایٹو --- آر کے اینڈ ایم انیشی ایٹو) سنہ 2011 میں قائم کی اور جس کی حتمی رپورٹ سنہ 2019 میں شائع ہوچکی ہے۔
این ای اے اب ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جو 30 ممالک کے درمیان جدید جوہری ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی مدد سے تعاون کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
این ای اے میں تابکاری فضلے کے شعبے کی سابق نائب سربراہ اور اب او ای سی ڈی کی نیوکلیئر انرجی ایجنسی کے ٹیکنیکل شعبے 'آئی ایف این ای سی' کی سربراہ، ڈاکٹر گلوریا کوانگ کہتی ہیں کہ 'آر کے اینڈ ایم کا کردار یہ ہے کہ وہ ان ذرائع کی موثر طریقے سے جانچ پڑتال کرے جن کی بدولت ان زیرِ زمین جوہری قبرستانوں میں انسان کی غیر ارادی مداخلت کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ مستقبل کے معاشروں کی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی صلاحیتوں کو بہتر کیا جا سکے۔'
اس کوشش کی وجہ سے مستقبل کے انسان کو تحقیق اور معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے قابل بنایا جانے کے لیے لائیبریریاں، ٹائم کیپسول اور ٹھوس سنگِ میل قائم کیے جانے کا خیال پیدا ہوا۔
نیوکلیئر کلچر ریسرچ گروپ اور یونیورسٹی آف لندن کے ریڈنگ اِن کیوریٹنگ ایٹ گولڈسمتھس، ڈاکٹر ایل کارپِنٹر کہتے ہیں کہ 'جوہری قبرستان کی جگہ پر ٹھوس جسم والے سنگِ میل پتھر ایک مخروطی مینار کی طرح یا بڑے بڑے کانٹوں کی مانند بنائے جاسکتے ہیں۔ اور بہتر ہے کہ یہ ایک نہ ہوں کیونکہ کہیں یہ ٹوٹ نہ جائیں، بلکہ اس جگہ پر اس قسم کے ہزاروں سنگِ میل دفن ہوں تاکہ انھیں بعد میں دریافت کیا جا سکے۔ یہ انھیں نوادرات کی طری اس علاقے میں پھیلا سکتے ہیں جس طرح رومیوں کے سکے پھیلا دیے جاتے تھے۔'
سیسِل مسارٹ کا خیال ہے کہ مستقبل کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہنے والی علامتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ 'جوہری ثقافت' کا حصہ ہوں۔
یہ کام ایک عام انسان کی زندگی میں بہت مشکل ہے کجا یہ کہ ایک بہت لمبے دور کے وقت میں اسے سرانجام دینا۔
انٹرنیشنل اٹامِک انرجی ایجنسی کی ایک ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ دنیا کی بمشکل صرف 6 فیصد آبادی ایسی ہے جو سہ برگہ (ٹریفائل) کی شناخت کر سکتی ہے، جو کہ ایک زرد دائرے میں تین سیاہ پروں والا نشان جو تابکاری اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایک اور ریسرچ سے معلوم ہوا کہ جاپان میں ایک ہزار برس پرانے سونامی پتھر جو شمالی جاپان میں قائم ہے اُس کے معنی آج بھی سمجھے جاتے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقے کے مقامی لوگوں نے اس سونامی پتھر کے انتباہ کو نظر انداز کیا اور ان علاقوں میں تعمیر شروع کردیں جو سونامی کے نشانے میں تھیں۔ ان علاقوں کے لوگوں کو سنہ 2011 کی زلزلے اور سونامی کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔
برسلز سے تعلق رکھنے والی ایک آرٹسٹ اور ریسرچر سیسِل مسارٹ کا خیال ہے کہ مستقبل کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہنے والی علامتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ 'جوہری ثقافت کا حصہ ہوں، جن کی یادگاروں کے اپنے نشان ہوں، سنگِ میل ہوں اور اپنی رسومات ہوں۔ اب تک صرف تابکاری اثرات کی علامتیں موجود ہیں۔'
اپنی لیبارٹری میں کام کے دوران مسارٹ ایک ایسی تخلیقی لیبارٹری کا تصور کرتی ہیں جو جوہری فضلے کے قبرستان کے اوپر والی جگہ پر دھات کی بنے ہوئے مخروطوں اور گنبدوں کے سلسلے میں تعمیر کیا گیا ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ 'اس میں ایک ہی جگہ پر ہر نئی نسل موسیقار، آثارِ قدیمہ کے ماہرین، مصنفین، ماہرینِ اقتصادیات، فنکاران، ماہرینِ حیاتیات، اور شعرا جمع کیے جائیں تاکہ وہ ان فضلے کے قبرستانوں کی نشاندہی کے لیے اپنے سے اگلی نسل کو یہ سنگِ میل کی یادگار نئی سے نئی شکل میں منتقل کرسکیں۔‘
سنہ 2011 میں امریکہ کےایک آرٹسٹ نے برائین میک گورنر اور برطانوی یونیورسٹی آف کمبریا کے فنونِ لطیفہ کے ایک پروفیسر رابرٹ ویلیمز نے اس موضوع پر مزید پیش رفت کی۔
'کمبرین ایلکیمی میں ہم نے جوہری امور سے متعلقہ لوک کہانیوں سے منسوب مصنوعات، لباس اور رسم و رواج کی طاقت پر تحقیق کی جن کا مقصود ایک زبانی روایتی روایات کو کمبریا کی جوہری جگہوں سے جڑے ان علاقوں میں تخلیق کرنا تھا تاکہ وہ ان کو کبھی بھلا نہ پائیں۔' یہ بات کہہ کر ویلیمز یہ مثال دیتے ہیں کہ تصور کریں کہ جوہری پجاری کی پوشاک جوہری سائنس کے بانی رابرٹ اوپن ہائیمر کے لباس سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہو۔ اس پجاری کی کمبریا کی اس قدیم جگہ پر ایک تصویر لی گئی تاکہ انھیں --- اور سی بویک --- کے آئیڈیا کو ٹیسٹ جا سکے۔
مسارٹ کہتا ہے کہ 'جوہری سائنس کے ماہرین کے لیے یہ آسان ہے کہ وہ ایک آرٹسٹ کو ان کے کام میں ایک رکاوٹ سمجھیں، لیکن اب بہت سارے انجینیئروں، ڈائریکٹروں، روشن فکر اور مہذب رہنماؤں نے آرٹ کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کردیا ہے۔'
کارپِنٹر کا کہنا ہے کہ 'جوہری صنعت میں اکثر کسی مخصوص جگہ کے بارے میں بات ہوتی ہے، لیکن ہم بحیثیت آرٹسٹ ایک مخصوص جگہ کی بجائے مکمل جوہری صنعت کی ہیّت کے بارے میں ایک جامع عالمی نکتہِ نظر پر بات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے کسی ایک جُزو کو دیکھنے کے بجائے اس کے جامع عمل کو دیکھیں اور پھر اس کے پورے نظام کے لیے سنگِ میل یا مارکر پیش کریں۔'
آخر میں 'آر کے اینڈ ایم انیشی ایٹو' نے یہ خیال پیش کیا کہ ان کے نظام بنانا ایک حل ہے۔
جیمز پیئرسن جنھوں نے اس انیشی ایٹو میں کام کیا، کہتے ہیں کہ 'کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک جادوئی جگہ ہے۔ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ مختلف ایسے نظاموں کو جو ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہوں، ان کو بنایا جائے، جیسا کہ مخلتف قسم کے جسمانی اور ٹھوس سنگِ میل (مارکرز) جن پر ان بے شمار قبرستانوں کے بارے میں معلومات درج ہوں، بتائیں کہ یہاں کیا دفن ہے۔ اس کا مطلب یہ بنے گا کہ آپ نے گہرائی میں اپنا دفاع تیار کیا ہوا ہے۔ اگر ایک آرکائیو برقرار نہیں رہتی ہے یا اُس سے آگ لگ جاتی ہے تو پھر آپ کے پاس اس کا متبادل موجود ہے۔'
اس سے آپ ان جوہری تنصیبات کو مستبقل کے معاشروں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں بجائے اس کے کہ آپ ان سے اُنھیں خوف زدہ کریں۔
' آپ کو خطرات کی علامت کی نشاندہی کر کے لوگوں کو ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ اس وقت ڈبلیو آئی پی پی کے لیے منصوبہ بنایا گیا ہے۔ آپ کو لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہاں کیا دفن ہے، تاکہ وہ اپنے لیے معلومات پر مبنی فیصلے کریں۔'