Wednesday, 28 January, 2009, 10:00 GMT 15:00 PST
صدر باراک اوباما کی جانب سے دوستی کی پیش کش کے جواب میں ایران نے کہا ہے امریکی موقف میں اگر کوئی’حقیقی اور بنیادی‘ تبدیلی آتی ہے تو ایران اس کا استقبال کرے گا لیکن امریکہ کو ماضی کی زیادتیوں کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔
تہران سے نامہ نگار جان لائن کے مطابق صدر محمود احمدی نژاد نے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا بھر سے اپنی افواج واپس بلائے اور اسرائیل کی حمایت بند کرے۔
نامہ نگار کے مطابق امریکہ کے خلاف صدر احمدی نژاد کی یہ اب تک کی سخت ترین تقریروں میں سے ایک تھی۔
باراک اوبامہ نے بحیثیت امریکی صدر اپنے پہلے باقاعدہ انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے اور یہ کہ ایران اگر اپنے موقف میں تھوڑی نرمی دکھائے تو وہ ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں۔ اس سے قبل امریکی حکومت نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ غیر مشروط بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
لیکن محمود احمدی نژاد نے مغربی ایران میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ کہتے ہیں کہ ہم تبدیلی کرنا چاہتے ہیں، تو تبدیلی دو دن میں ہوسکتی ہے۔ لیکن تبدیلی دو طرح کی ہوسکتی ہے۔ پہلی بنیادی اور موثر اور دوسری حکمت عملی کی تبدیلی۔‘
’اور اگر یہ دوسری تبدیلی ہے، یعنی صرف حکمت عملی بدلی جارہی ہے، تو یہ جلدی ہی واضح ہوجائے گا۔‘
امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران اس سے انکار کرتا ہے۔ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
صدر احمدی نژاد نے کہا کہ’ جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔۔۔ انہیں ایرانی قوم سے ان جرائم کے لیے معافی مانگنی چاہیے جو انہوں نے ماضی
میں ایران کے خلاف کیے ہیں۔‘