Tuesday, 27 January, 2009, 01:07 GMT 06:07 PST
غزہ کے دورے پر آئے یورپی اتحاد کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران کی زیادہ تر ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔
انسانی امداد کے سربراہ لوئیس مشل نے کہا کہ اسرائیلی حملے سے ہونے والی تباہی قابلِ مذمت ہے لیکن حماس اس کا زیادہ ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد‘ تنظیم کے ساتھ اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ نہیں دیتی اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کر لیتی۔
انہوں نے غزہ کے لیے 70 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا بھی اعلان کیا۔
دریں اثنا امریکی صدر باراک اوباما نے مشرقِ وسطیٰ کے اپنے نئے ایلچی جارج مچل کو خطے میں امن مذاکرات شروع کروانے کے لیے بھیجا ہے۔
یورپی اتحاد کے اہلکار نے اسرائیلی بمباری سے غزہ کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں حالات بہت برے اور ناقابلِ بیان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ہمیں (اس حالت کے لیے) حماس کی زیادہ ذمہ داری بھی یاد رکھنی چاہیئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہ جان بوجھ کر یہاں یہ بات کہہ رہے ہیں، حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس کی مذمت کرنا چاہیئے۔‘
انہوں نے کہا کہ یورپی اتحاد فلسطینیوں کو سب زیادہ امداد دیتا ہے اور سنہ 2000 سے لے کر اب تک تین ارب یوروز دے چکا ہے۔
اس کے بعد لوئیس مشل ان اسرائیلی علاقوں میں بھی گئے جنہیں حماس نے راکٹوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اسرائیل سے کہا کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کر دے۔
انہوں نے دونوں فریقوں پر انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
یاد رہے کہ بائیس روز کی اس لڑائی میں تیرہ سو سے زائد فلسطینی جن میں سے چار سو سے زائد بچے بھی شامل تھے اور تیرہ کے قریب اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔