Monday, 26 January, 2009, 10:20 GMT 15:20 PST
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل مارک تھامسن نےاپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ غزہ کے متاثرین کے لیے امداد کی اپیل نشر کرنے سے بی بی سی کی غیر جانبداری متاثر ہوگی۔
مارک تھامسن کا کہنا ہے کہ بی بی سی یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ وہ کسی ایک فریق کی ’حمایت‘ کر رہی ہے۔برطانوی پارلیمان کے پچاس اراکین نے کہا ہے کہ وہ بی بی سی پر غزہ کے لیے امدادی اپیل نشر کرنے سے متعلق پارلیمانی تحریک کی حمایت کریں گے۔
سکائی نیوز نے پیر کو فیصلہ کیا ہے وہ بھی غزہ کے لیے ہنگامی کمیٹی، ڈیزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی، (ڈی ای سی) کی اپیل نشر نہیں کرے گا۔
برطانوی ٹی وی چینلوں آئی ٹی وی، چینل فور اور چینل فائیو نے غزہ کے متاثرین کے لیے امداد کی اپیل نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بی بی سی سے دوبارہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپیل نشر نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔
آرچ بشپ، سرکاری وزراء، خیراتی اداروں کے رہنماؤں اور تقریباً گیارہ ہزار ناظرین نے اس اپیل کو نشر نہ کرنے کے بی بی سی کے فیصلے کی تنقید کی ہے۔
درجن بھر سے زائد حیراتی ایجنسیوں کی نمائندگی کرنے والی ڈیزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد وہاں کے لوگوں کے لیے خوراک، دوائیں اور کمبل خریدنے کے لیے لوگوں سے مدد کی اپیل کر رہی ہے۔
بی بی سی پر یہ اپیل نشر کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے لیکن مسٹر تھامسن نے پیر کی صبح اپیل نشر نہ کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے یہ تسلیم کیا تھا کہ غیر جانبداری کی بنیاد پر اس اپیل کو نشر کرنے میں دشواری ہوگی اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا جب بی بی سی نے کوئی اشتہار نشر کرنے سے انکار کیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’عوام ہمیں غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں اور اس غیر جانبداری کو برقرار رکھنا میری ذمہ داری ہے‘۔انہوں نے اس
بات سے انکار کیا کہ
ان پراسرائیلی لابی کا دباؤ ہے۔
مارک تھامسن نے کہا کہ بی بی سی غزہ میں ’انسانی المیے‘ اور اس پیچیدہ خبر کے مختلف پہلوؤں کی رپورٹنگ جاری رکھے گا۔
لیبر کے رکن پارلیمنٹ رچرڈ برڈن پارلیمان میں تحریک پیش کریں گے۔