http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 24 January, 2009, 13:00 GMT 18:00 PST

غزہ میں سکول دوبارہ کھل گئے

غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے خاتمے کے بعد علاقے میں اقوامِ متحدہ کے سکولوں نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے زیرِانتظام چلنے والے سکولوں میں غزہ کے دو لاکھ بچے زیرِ تعلیم ہیں۔حالیہ لڑائی کے دوران ان سکولوں کی عمارتوں کو ان پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا گیا جن کےگھر اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوگئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان کرسٹوفر گنز کے مطابق غزہ میں جنگ کے دوران ادارے کے تح تحت چلنے والے دو سو سکولوں میں سے تیس کو نقصان پہنچا۔ ان سکولوں میں سے الفخورہ میں واقع ایک ایسے ہی سکول پر اسرائیلی گولہ باری سے چالیس فلسطینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

سکول دوبارہ کھولنے کا فیصلہ اسرائیلی کی جانب سے اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے کارکنوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینے کے بعد کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر سے امدادی کارکنوں کے غزہ میں داخلے پر پابندی تھی۔

اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے اسرائیلی کی جانب سے پابندیوں کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں امداد کی فراہمی کا کام بہت وسیع ہے اور سکولوں، ہسپتالوں، مسجدوں اور گھروں کی تعمیر کے لیے بڑی مقدار میں تعمیراتی سامان درکار ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے امدادی کام کے انچارج نے کہا تھا کہ تین ہفتے کی اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد غزہ کے حالات اتنے ابتر ہیں کہ جس کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ سرجان ہومز نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کو منصوبے کے تحت کی گئی تباہی سے نہایت دکھ ہوا ہے اور غزہ کی معاشی حالت کئی برس پیچھے دھکیل دی گئی ہے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے سربراہ جیکب کیلینبرجر نے بھی کہا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں حالات بہت ابتر ہیں۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حال ہی میں غزہ کے دورے کے دوران انہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد الشفاء ہسپتال کا جو حال دیکھا ہے ایسا دل دہلا دینے والا منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

مسٹر کیلینبرجر کسی امدادی ادارے کے اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد غزہ میں داخل ہونے والے پہلے سربراہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ الشفاء ہسپتال میں لوگوں نے جو کچھ جھیلا ہے وہ افغانستان اور دارفور سے بھی کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ اور یہ کہ لوگوں کو پہنچنے والے زخموں سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں ایسے بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں جن سے عام شہریوں اور عسکریت پسندوں میں تفریق حقیقتاً ناممکن ہوگئی ہے۔