http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 24 January, 2009, 02:12 GMT 07:12 PST

غزہ امداد کی اپیل نشرنہ کرنےکا فیصلہ

بی بی سی نے غزہ کے لیے امداد کی اپیل نشر نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ اُسے اس بات پر شک ہے کہ امداد غزہ کے متاثرین تک پہنچ سکے گی اور بی بی سی نہیں چاہتا کہ عوامی سطح پر اسکی غیر جانبداری پر کوئی اثر پڑے۔

برطانوی حکومت نے بی بی سی سمیت تمام نشریاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں امداد کی اپیل نشر نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ اُس نے غزہ کی تباہی پر ہنگامی کمیٹی، ڈیساسٹرز ایمرجنسی کمیٹی، (ڈی ای ایس) کی اپیل کسی بھی نیٹ ورک پر نشر نہ کرنے کا فیصلہ دوسرے نشریاتی اداروں کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

کارپوریشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں امداد پہنچانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

تاہم ڈی ای سی کا کہنا ہے کہ یہ بات صاف ہے کہ برطانوی عوام مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بی بی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فیصلہ اس طرح کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں امداد کی ترسیل کے بارے میں سوالیہ نشان اٹھنے اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ اس سے جاری خبر کے تناظر میں بی بی سی کی غیر جانبداری نہ متاثر ہو۔‘

تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی یقیناً غزہ میں انسانی بحران رپورٹ کرتی رہا گی۔

ڈی ای سی میں ایکشن ایڈ، دی برٹش ریڈ کراس، کیفوڈ، کیئر انٹرنیشنل یو کے، اسلامک ریلیف، آکسفیم، سیو دی چلڈرن اور ٹیئر فنڈ جیسے ادارے شامل ہیں۔