Tuesday, 20 January, 2009, 11:34 GMT 16:34 PST
کیرین ایلن
بی بی سی کوگیلو، کینیا
مغربی کینیا میں باراک اوباما کے آبائی گاؤں میں لوگ نے امریکہ میں نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہونے سے کئی گھنٹوں قبل ہی جشن منانا شروع کر دیا۔
کوگیلو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ لوگوں نے صبح سویرے سے ہی گانا اور ناچنا شروع کر دیا اور دن کا آغاز دو بیل ذبح کر کے کیا گیا۔
کینیا شہر میں ٹی وی کی قدِ آدم سکرینیں خصوصی طور پر لگائی گئی ہیں تاکہ لوگ حلف برداری کی تقریب کو براہ راست دیکھ سکیں۔
کوگیلو امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر باراک اوباما کے والد کا آبادی گاؤں ہے۔ پانچ ہزار نفوس پر مشتمل اس گاؤں میں عام طور پر خاموشی طاری رہتی ہے لیکن ان دنوں یہاں جشن کا سا سماں ہے۔
اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک سپوت کے دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے چوالیس صدر کے طور پر حلف اٹھانے سے گھنٹوں قبل ہی یہاں پر
تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے۔
|
|
![]() |
|
| لوگ سیاسی تبدیلی کی بھی توقع کر رہے ہیں |
اسی برس کی باراک اوباما کی دادی اور خاندان کے کئی اور افراد تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پہلے ہی واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔
باراک اوباما کے چار ماہ قبل انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے چند دن بعد ہی اس گاؤں کے کچھ حصوں کو بجلی فراہم کر دی گئی تھی۔ اس گاؤں کو جہاں گنے اور باجرے کی کاشت کی جاتی ہے پانی کی سپلائی بھی بڑھا دی گئی تھی۔
ایک آدمی کا کہنا تھا کہ اوباما نے کینیا کی حکومت کو شرمندہ کر دیا ہے اور اب پوری دنیا کی آنکھیں ہم پر لگی ہیں اس لیے وہ ہمیں کچھ دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ اکثر اسی طرح پسماندہ علاقوں میں ترقی ہوتی ہے۔
اس سارے شور شرابے میں ہمیں پہلے ’اوباما کا سیاح‘ ملا جو کینیڈا سے اس گاؤں میں جشن کی خبریں سن کر کینیڈا سے یہاں چلا آیا۔
سٹیفن لوینگسٹون نے کہا کہ اوباما کی فتح سے لوگوں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
انہوں نےکہا کہ انہیں اور ان کے ہمسفر ساتھیوں کو یہاں پرجوش طریقے سے خیرمقدم کیا گیا اور بچے ان اجنبیوں کو اپنے درمیان پا
کر پہت حیران ہیں۔
![]() |
|
| افریقہ کے لیے جمہوریت کا پیغام ہے |
|
|
’مجھے امید ہے کہ صدر اوباما کی حلف برداری کی تقریب سے متاثر ہو کر بچوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ اگر وہ بھی محنت کریں تو وہ بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘
باراک اوباما کے خاندان کا تعلق لو برادری سے ہے جن کی بڑی مضبوط روایات ہیں اور جنہیں اپنی شناخت اور ’نلوٹک‘ جڑوں پر بہت فخر ہے۔
عام توقع یہی ہے کہ باراک اوباما کے حلف اٹھاتے ہی مغربی کینیا میں سرمایا کاری میں اضافہ ہو گا۔ اور پورے افریقہ کی سیاست میں تبدیلی آنے کی بھی امید ہے۔
کوگیلو میں ہونے والی تقریبات کے ایک منتظم ویٹالیز اچے اگومبو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اوباما کی صدارت کے دوران افریقہ کے سیاسی نظام میں تبدیلی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’اوباما کا ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ ہمیں جمہوری نظام اپنانا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ وہ آمروں کو بھی یہی پیغام دیں گے۔‘
نظریں اب اوباما پر لگی ہیں کہ وہ زمبابوے اور سوڈان میں دارفور کے مسائل کو کسی طرح حل کرتے ہیں اور یا پھر امریکہ کے اندرونی معاملات جن میں معیشت بھی شامل ہے ان پر حاوی رہتے ہیں۔
اوباما نے دو سالقبل نیروبی یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے سیاسی کرپشن اور قبائل کے خلاف سخت کلمات کہتے تھے اور ان کے الفاظ کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔
کینیا کے لوگ جو اپنے سیاسی رہنماؤں سے بدزن ہیں ان کی امیدیں ایک ایسے شخص سے وابستہ ہو گئی ہیں جو گو ایک دوسرے ملک کا صدر ہے لیکن کینیا کے لوگ کے لیے امید کا نشان ہے۔
بہت سے لوگوں کو امید ہے کہ اوباما کی صدارت اس وسیع براعظم جو کہ برے رہنماؤں سے بھرا پڑا ہے ایک اہم موڑ ثابت ہو گی۔
ان تمام توقعات پر پورا اترنا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔