http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 20 January, 2009, 15:15 GMT 20:15 PST

بان کی مون غزہ کے دورے پر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اقوام متحدہ کے احاطے کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ اس تباہی کو دیکھ کر ششدر رہے گئے ہیں۔

غزہ میں پچاس ہزار سے زیادہ بےگھر

انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کیا کہ اس احاطے کو نشانہ بنانے والے فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔

بان کی مون غزہ میں اقوام متحدہ کے احاطے کی عمارت کے مبلے کے قریب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔ عمارت کے ملبے سے اس وقت بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ غزہ میں تباہی اور بربادی کو دیکھ کر انتہائی رنجیدہ ہوئے ہیں۔
غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا جاری ہے

انہوں نے کہا کہ غزہ میں انہوں نے تباہی اور بربادی کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری کو طاقت کا بےجا استعمال قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل غزہ کے لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ آئے ہیں۔

غزہ پر تینوں ہفتوں تک جاری رہنے والی اسرائیلی یلغار سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور فلسطینی حکام کا اندازہ ہے کہ اس کی تعمیر نو پر ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے وقت تک چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں جاری تھیں اور اسرائیلی بحریہ غزہ پر گولے داغ رہی تھی۔

اطلاعات کے مطابق غزہ سے بھی اسرائیل پر ماٹر گولے پھینکے گئے۔

غرب اردن میں ایک اسرائیلی شہری کو اس وقت گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا جب وہ ایک یہودی بستی کے قریب سے گزر رہا تھا۔

ایک غیر معروف فلسطینی گروپ البشیر آرمی نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

تاہم اسرائیلی فوجوں کا انخلاء جاری ہے۔ اسرائیل میں سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل باراک اوباما کے حلف اٹھانے سے قبل غزہ سے اپنی تمام فوجی نکالنا چاہتا ہے۔

غزہ میں موجودہ تنازعے کے شروع ہونے کے بعد بان کی مون پہلے عالمی راہنما ہیں جو اس تباہ شدہ علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ غزہ میں ایرز کی کراسنگ سے داخل ہوئے اور غزہ شہر تک سڑک کے ذریعے پہنچے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بان کی مون کا دورہ غزہ میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے عملے کے لیے انتہائی حوصلہ بخش ہو گا۔

ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی کہ کئی جگہوں پر حماس نے احتجاج بھی کیا لیکن مجموعی طور پر غزہ میں حالات پرامن رہے۔

بان کی مون غزہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسرائیل کے شہر شدروت جائیں گے جو کہ حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کی زد میں رہا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے حکام نے کہا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے لاکھوں ڈالر کی امداد درکار ہو گی۔