Tuesday, 20 January, 2009, 00:40 GMT 05:40 PST
امریکہ میں سیاہ فام افراد کے حقوق کی تحریک کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں سالانہ تعطیل کے موقع پر باراک اوباما نے واشنگٹن میں سجاوٹ کے کام میں ہاتھ بٹایا ہے۔
ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کو سنہ انیس سو اڑسٹھ میں قتل کر دیا گیا تھا۔
باراک اوباما نے ڈاکٹر کنگ کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور امریکیوں سے کہا کہ وہ اس قوم کے وعدے پورے کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔
ادھر واشنگٹن میں منگل کو نئے صدر کی تقریبِ حلفِ صدارت کے موقع پر عوام کے فقید المثال اجتماع کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
توقع ہے کہ صدر کے اس تاریخی حلفِ صدارت کو دیکھنے کے لیے بیس لاکھ کے قریب افراد واشنگٹن میں جمع ہوں گے۔
باراک اوباما نے پیر کو دن کا آغاز شمالی واشنگٹن میں ایک طبی سینٹر میں دورے سے کیا جہاں انہوں نے زخمی امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔
اس کے بعد وہ بے گھروں کے لیے قائم ایک پناہ گاہ میں گئے اور ایک دیوار پر رنگ کیا۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا: ’موجودہ بحران جس کا ہم شکار ہیں اور جن مشکلات میں بہت سے افراد گھرے ہوئے ہیں ان کے بعد ہم فارغ نہیں بیٹھ سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی زیادہ لوگوں کی خدمت میں گزاری۔
باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ’آج جب ہم ان کی یاد کا احترام کر رہے ہیں تو یہ ایسا دن نہیں کہ ہم ٹھہر جائیں اور سوچیں۔ یہ ایسا دن ہے کہ ہم عمل کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ منگل کی تقریب اسی راہ پر ہوگی جس پر کئی ہزار افراد مارٹن لوتھر کنگ کا ’میرا اک خواب ہے‘ سننے کے لیے سنہ انیس سو تریسٹھ میں جمع ہوئے تھے۔ اس تقریر میں مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ وہ دن آئے گا جب لوگوں سے ان کے رنگ کو دیکھتے ہوئے امتیاز نہیں برتا جائے گا۔
بی بی سی کے میتھیو پرائس کہتے ہیں کہ تاریخ کی ستم ظریفی کہیئے کہ یومِ مارٹن لوتھر اس دن سے چوبیس گھنٹے قبل آیا ہے جب امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں بہت سے لوگوں کے لیے باراک اوباما کی صدارت، ڈاکٹر لوتھر کنگ کے خواب کی تعبیر ہوگی۔