Sunday, 18 January, 2009, 11:39 GMT 16:39 PST
حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل کے ساتھ فوری فائربندی کا اعلان کیا ہے۔ حماس نے کہا کہ اسرائیلی فوج ایک ہفتے کے اندر اندر غزہ سے نکل جائے۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ فائربندی کے اعلان کے بعد اتوار کے روز غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقوں پر سات راکٹ داغے گئے جن کے جواب میں اسرائیلی فوج نے بھی کارروائی کی۔
حماس کے اعلیٰ رہنما موسیٰ ابو مرزوک نے کہا کہ اسرائیل اس ایک ہفتے میں غزہ سے اپنی فوجیں نکال لے۔ حماس نے کہا کہ طویل مدت کی فائربندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور تمام سرحدی راستے کھول دے۔
اس سے قبل اسرائیل کی طرف سے یکطرفہ فائربندی کے اعلان کے بعد فلسطینی شدت پسندوں نے اسرائیلی علاقوں پر بیس راکٹ فائر کیےجس کے جواب میں اسرائیل نے بھی کارروائی تھی۔ اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے فائربندی کے اعلان کے بعد بھی کم سے کم تین راکٹ فائر کیے ہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اس کی فوج نے غزہ سے بتدریج انخلاء شروع کر دیا ہے۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن نے فوجیوں
اور ٹینکوں کی تصاویر دکھائی ہیں جو سرحد کی طرف آ رہے ہیں۔
اسرائیلی کارروائی ستائیس دسمبر کو شروع ہوئی تھی۔ فلسطینی طبی شعبے کے حکام نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے ملبے سے مزید پچانوے لاشیں برآمد کی ہیں جس سے سے اب تک مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد تیرہ سو سے زیادہ ہو گئی ہے۔ تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔
سنیچر کی شب اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے غزہ میں یکطرفہ فائر بندی کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فائربندی کے باوجود اسرائیلی افواج غزہ میں موجود رہیں گی۔ اولمرٹ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلے گی جب تک یہ نہیں محسوس ہوتا کہ فائربندی کامیاب رہی ہے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ راکٹ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جواب میں اسرائیل نے بھی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فوج
کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے راکٹ داغے گئے تھے۔
![]() |
|
| اگر راکٹ حملے نہ رکے تو پھر کارروائی کریں گے: اولمرٹ |
اپنے خطاب میں مسٹر اولمرٹ نے کہا کہ فوجی کارروائی کے دوران حماس کو بھاری نقصان پہنچا ہے، فوجی اعتبار سے بھی اور اس کے سرکاری بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے بھی۔ اس کے علاوہ راکٹ بنانے کی فیکٹریاں اور درجنوں سرنگیں بھی تباہ کی گئی ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا: ’لیکن جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار حماس پر ہے۔‘ اولمرٹ نے کہا کہ فوج فی الحال غزہ میں رہے گی اور اگر حماس نے حملے بند کر دیے تو ہم اپنی سہولت کے مطابق فوج کو واپس بلا لیں گے۔ ’لیکن اگر راکٹوں سے حملے جاری رہے تو اسرائیل پوری قوت سے جواب دے گا۔‘ امریکہ نےکہا کہ وہ وہ چاہتا ہے کہ تمام فریق لڑائی فوراً بند کردیں۔
حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ایک بھی اسرائیلی فوجی کی موجودگی براداشت نہیں ہوگی۔ ’اسرائیل اپنی فوج فوراً واپس بلائے، سرحدی چوکیاں کھولے اور اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے۔‘
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں بیت لاہیہ میں واقع ایک سکول پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وہاں دو بچے ہلاک ہوگئے ہیں جن کی عمر پانچ اور سات سال تھی۔ اس سکول میں سینکڑوں افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ سکول پر بمباری کی تحقیات کر رہا ہے۔ لیکن فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی امدادی ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں۔
یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان کرِس گنیس نے کہا: ’ایک تحقیقات کرنی ہوگی تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کیا جنگی جرم ہوا ہے۔‘
یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ جون گنگ نے کہا: ’یہ ایک اور ناقابل یقین سانحہ ہے۔ ایسے بہت سے دوسرے سانحات کے بعد ہونے والا ایک اور سانحہ۔ مرنے والے دونوں بچے ہر طرح کے شک و شبہے سے بالاتر قطعاً معصوم تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اب تو سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ غزہ میں مرنے والے تمام معصوم اور بے قصور لوگوں کی ہلاکت کیا جنگی جرم نہیں۔ جنیوا کنونشن کے تحت اس بات کا جواب ملنا چاہیے۔ صرف ذرائع ابلاغ میں بحث نہیں، اس سوال کا جواب ملنا چاہیے۔‘
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایگال پامور نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی حکومت اس بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کی منتظر ہے۔ ترجمان نے کہا: ’ہمارے پاس صحیح اطلاعات نہیں ہیں کہ کب، کہاں، کیسے اور کس طرح (ٹینک) کے گولے لگے ہیں۔‘ تاہم ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے ’رتی بھر شواہد بھی نہیں‘ ہیں کہ جنگی جرائم کے الزامات ثابت کیے جاسکیں۔