http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 18 January, 2009, 22:57 GMT 03:57 PST

حماس کامیابی کی دعویدار

غزہ میں حماس کے سرکردہ رہنما اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام نے اسرائیل پر شاندار فتح حاصل کی ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو، اپنی افواج غزہ سے واپس بلانا چاہتے ہیں۔

مسٹر اولمرٹ یورپی رہنماؤں کے ہمراہ یروشلم میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کر رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق تین ہفتے کی تباہ کن کارروائی کے بعد کچھ اسرائیلی فوج واپس جانا شروع ہوگئی ہے۔

غزہ: اقوام متحددہ کے سکول پر فائرنگ
غزہ میں کارروائی کا اٹھارہواں دن
غزہ: یہ جنگ کیسے بند ہو گی؟ آپ کی رائے
غزہ: غضب کا سولہواں دن
’بیالیس فیصد مرنے والے بچے اور عورتیں‘
غزہ میں جارحیت پر شدید احتجاج

ادھر مسٹر ہنیہ نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے‘۔

اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ فائر بندی کے اعلان کے بعد حماس نے بھی ایک ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے لیکن نامہ نگاروں کے مطابق اسرائیلی اعلان کے بعد بھی حماس کی جانب سے راکٹ داغے گئے اور اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کی۔

مسٹر اولمرٹ کی پریس کانفرنس میں جو یورپی رہنما موجود تھے، ان میں سے بعض نے اسرائیلی حکمت عملی پر سخت تنقید کی ہے۔ مسٹر اولمرٹ نے کہا کہ اسرائیل غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلانا چاہتا ہے۔

’ ہم غزہ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے نہیں نکلے تھے، ہم وہاں نہیں رہنا چاہتے، ہم جتنا جلدی ممکن ہو واپس آنا چاہتے ہیں۔‘

اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کو کامیاب بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اسرائیل علاقے سے اپنی فوج نکالے، اور غزہ میں امدادی کارروائیوں کا آغاز ہو۔ انھوں نے کہا کہ حماس کی جانب سے راکٹ حملے بند کئے جائیں اور غزہ میں اسلحے کی آمد روکی جائے۔

فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی نے کہا کہ غزہ میں پائیدار اور مستقل جنگ بندی بہت ضروری ہے، اسرائیل جنگ بندی کے بعد اپنے وعدے پورے کرے۔

مصر کے صدر حسنی مبارک کا کہنا تھا کہ عالمی برادری غزہ میں قیام امن کی کوششوں میں تعاون کرے اور سرحدی راستے کھولنے کےلئے اپنا کردار ادا کرے جبکہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کےلئے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں۔

ان رہنماؤں نے اتوار کو پہلے شرالشیخ میں ہونے والے عالمی سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔ ان میں جرمن چانسلر اینگیلا مرکل، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون، اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی، اردن کے شاہ عبداللہ، ہسپانوی وزیر اعظم جوزے لوئس زپارتو اور ترک صدر عبداللہ گل بھی شامل تھے۔

حماس کے اعلیٰ رہنما موسیٰ ابو مرزوک نے کہا کہ اسرائیل اس ایک ہفتے میں غزہ سے اپنی فوجیں نکال لے۔ حماس نے کہا کہ طویل مدت کی فائربندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور تمام سرحدی راستے کھول دے۔

اسی دوران اسرائیلی ٹیلی ویژن نے فوجیوں اور ٹینکوں کی تصاویر دکھائی ہیں جو سرحد کی طرف واپس آ رہے ہیں۔

قطر نے غزہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے اسرائیل کو دوہا میں اپنا تجارتی دفتر بند کرنے اور اس کے عملے کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا ہے۔ قطر خلیج فارس کا واحد ملک تھا جس کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے۔

اسرائیلی کارروائی ستائیس دسمبر کو شروع ہوئی تھی۔ فلسطینی طبی شعبے کے حکام نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے ملبے سے مزید پچانوے لاشیں برآمد کی ہیں جس سے سے اب تک مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد تیرہ سو سے زیادہ ہو گئی ہے۔ تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

سنیچر کی شب اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے غزہ میں یکطرفہ فائر بندی کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فائربندی کے باوجود اسرائیلی افواج غزہ میں موجود رہیں گی۔ اولمرٹ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلے گی جب تک یہ نہیں محسوس ہوتا کہ فائربندی کامیاب رہی ہے۔

فائربندی کا اعلان کرتے ہوئے مسٹر اولمرٹ نے سنیچر کو کہا تھا کہ فوجی کارروائی کے دوران حماس کو بھاری نقصان پہنچا ہے، فوجی اعتبار سے بھی اور اس کے سرکاری بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے بھی۔ اس کے علاوہ راکٹ بنانے کی فیکٹریاں اور درجنوں سرنگیں بھی تباہ کی گئی ہیں۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ حماس کو غزہ میں ایک بھی اسرائیلی فوجی کی موجودگی براداشت نہیں ہوگی۔ ’اسرائیل اپنی فوج فوراً واپس بلائے، سرحدی چوکیاں کھولے اور اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے۔‘

دریں اثنا، بی بی سی کے نامہ نگار شمالی غزہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں جہاں انہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی کے مناظر دیکھے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہےکہ اپنے گھر چھوڑ کر بھاگنے والے چالیس ہزار افراد میں سے کچھ لوٹنا شروع ہوگئے ہیں اور اپنے تباہ شدہ گھروں سے جو کچھ نکال سکتے ہیں نکال رہے ہیں۔

ادھر مسٹر بانکی مون نے کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کی فوری ضروریات کا تخمینہ لگانے کے لیے وہ ایک ٹیم بھیجیں گے اور ’ہمیں امید ہے کہ دس روز کے اندر ہم ہنگامی بنیاد پر امداد کی اپیل جاری کرسکتے ہیں۔‘