Saturday, 17 January, 2009, 15:31 GMT 20:31 PST
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک فوجی اڈے کے نزدیک کیے گئے خودکش کار بم حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت پانچ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ دھماکہ امریکی فوجی اڈے ایگرز اور جرمن سفارتخانے کے درمیان موجود چھوٹی سڑک پر کیا گیا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں کئی جرمن شہری بھی شامل ہیں۔
برلن میں جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے سفارتخنے کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس حمے کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے سے ایک تیل کے ٹینکر اور کئی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔
بعد میں ننگرہار صوبے میں کیے گئے ایک اور حملے میں ایک افغان شہری ہلاک جبکہ کئی افراد زخمی ہوگئے۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ جرمن سفارتخانے کے نزدیک کیے گئے حملے کے ایک عینی شاہد نے خود کش بمبار کو کار کے ذریعے حملہ آور ہوتے دیکھا تھا۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
طالبان نے ان دونوں حملوں کی دمہ داری قبول کرلی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق حزب المجاہدین کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ ایک خودکش بمبار نے کیا ہے۔
اس علاقے میں سکیورٹی کے بھاری انتظامات کے باوجود یہاں اس نوعیت کے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔
نومبر میں ایک قریبی علاقے میں کیے گئے حملے میں چار افغان افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سن 2008 میں اس علاقے میں حملوں کا تناسب پہلے سے کم رہا ہے۔