Wednesday, 14 January, 2009, 16:02 GMT 21:02 PST
بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ممبئی حملوں کے ثبوتوں کے سلسلے میں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان پر کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور تعاون کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے بارے میں شکوک اب مزید پختہ ہوتے جارہے ہیں۔
وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ان کے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے ’ممبئی حملے کے سلسلے میں پاکستان کے رد عمل میں انکار کرنے اور دامن بچانے کا ایک مستقل طرز نظر آتا ہے ۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے بھارت نے ممبئی حملے کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنے یہاں تفتیش کرے اور اس کی تفصیلات بھارت کو فراہم کرے لیکن اس کے بجائے پاکستان کے اعلی رہنما منفی بیانات دے رہے ہیں۔
اس دوران بھارت کے بری فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے کہا ہے کہ ممبئی حملے کے نتیجے میں ہند پاک کشیدگی میں یقیناً اضافہ ہوا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ جنگ کا سوال تب پیدا ہوتا ہے جب سارے راستے بند ہو گئے ہوں ’جنگ مسئلے کا آخری حل ہے اور اس کا فیصلہ صرف سیاسی قیادت کر سکتی ہے۔‘
جنرل کپورآرمی ڈے سے ایک روز قبل دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے فاٹا ایریا سے فوجیوں کو ہندوستان
پاک سرحد پر منتقل کرنے کے بارے میں
کہا کہ وہ اس سے واقف ہیں ’یہ ہمارے لیے کسی تشویش کا سبب نہیں ہے ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی بھی وقت کسی آپریشن کی صورت
میں فوج نے اپنی حکمت عملی میں اس حقیقت کو سامنے رکھا ہے۔‘
جنرل دیپک کپور کی نیوزکانفرنس میں بڑی تعداد میں صحافی موجود تھے۔ ان سے ہند پاک کشیدگی اور فوجی آپشن سے متعلق متعدد سوالات کیے گئے لیکن ان کا موقف یہی تھا کہ جنگ کسی مسئلہ کا آخری راستہ ہوتی ہے اور یہ راستہ تبھی اختیار کیا جاتا ہے جب سارے دوسرے راستے بند ہو جاتے ہیں۔