Monday, 12 January, 2009, 18:46 GMT 23:46 PST
اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے سوموار کو غزہ پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کے لیے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی ’بہیمانہ‘ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق کرنے کے لیے ایک مشن غزہ روانہ کرنے کی قرار داد مغربی ملکوں کی طرف سے عدم تعاون کے باوجود منظور ہو گئی۔
سینتالیس ملکوں پر مشتمل اس کونسل کے تینتیس ارکان نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا۔ قرار داد کے حق میں ووٹ دینے والے ملکوں میں زیادہ تر افریقہ، ایشیا، عرب اور لاطینی امریکہ کے ملک شامل تھے۔ تیرہ مغربی ملکوں نے قرار داد پر ووٹ نہیں دیا جبکہ کینیڈا واحد ملک تھا جس نے قرار داد کے خلاف ووٹ ڈالا۔
قرار داد میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ سترہ دن پہلے شروع کی جانے والی فوجی کارروائی کو فوری طور پر بند کرے اور غزہ سے اپنی فوج کو واپس بلائے۔
کونسل کی یہ قرار داد گزشتہ جمعہ کو غزہ پر اسرائیلی کارروائی کے بارے میں شروع ہونے والے خصوصی اجلاس کے اختتام پر منظور کی گئی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نوئی پلے نے جعمہ کو کونسل کے اجلاس کو بتایا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کا ہر صورت حال اور ہر وقت اطلاق ہوتا ہے اور کسی بھی تنازع میں ملوث فریقین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زخمیوں کو طبی امداد مہیا کرنے کے لیے متاثرہ علاقے سے نکالیں گی اور ان کے نگہداشت کریں گے اور طبی امداد مہیا کرنے والے ورکروں کی حفاظت اور احترام کریں گے ۔ اس کے علاوہ وہ ہسپتالوں، طبی یونٹس اور ایمبولینسوں کی بھی حفاظت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی ضرور ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ کونسل ایک وفد تشکیل دینے پر غور کرے جو غزہ جا کر وہاں دو اطراف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے اور جوابدہی کو یقینی بنائے۔