Monday, 12 January, 2009, 17:22 GMT 22:22 PST
صدر بش نے صدر کی حیثیت میں اپنی آخری پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان سے عراق کے بارے میں غلطیاں ہوئی ہیں اور عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے نہ ملنے پر وہ مایوس ہوئے تھے۔
نو منتخب صدر باراک اوبامہ کو اقتدار حوالے کرنے سے آٹھ دن قبل صدر بش نے اپنے پیش رو کو خبردار کیا کہ امریکہ حملہ کا ابھی خطرہ موجود ہے۔
صدر بش نے ایران اور شمالی کوریا کو بدی کا محور قرار دیتے ہوئے کہا وہ بھی خطرناک ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے اخبارنویسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آٹھ سالہ دورۂ اقتدار میں پریس کی طرف اُن کو حاصل تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برس میں انہیں اتوار کے سوا روزانہ سکیورٹی بریفنگ دی گئی۔
اخبارنویسوں کی طرف سے سوالات میں یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا عراق پر حملے کی وجہ سے امریکی کی اخلاقی برتری کو نقصان پہنچا ہے تو بش نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ عراق میں دو ہزار تین میں ’مشن کامیاب‘ کے بینر تلے امریکی فوج سے خطاب کرنا ایک غلطی تھی۔
صدر بش نے کہا کہ ابو غریب میں قیدیوں پر تشدد کی خبر بھی ان کے لیے شدید مایوسی کا باعث تھی۔
امریکہ کے اندر انہوں نے کہا کترینہ طوفان میں حکومت کا ردعمل ٹھیک تھا تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر کیا جا سکتا تھا۔