Sunday, 11 January, 2009, 01:03 GMT 06:03 PST
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ہزاروں مظاہرین نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرہ کیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرہ پر امن طریقے سے شروع ہوا لیکن جب مظاہرین اسرائیلی سفارتخانے کے قریب پہنچے تو پولیس کے ساتھ چند جھڑپیں بھی ہوئیں۔
جھڑپوں میں تین پولیس والے معمولی زخمی ہوئے ہیں اور ایک دکان کے شیشے ٹوٹ گئے۔
میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں تقریباً بیس ہزار افراد نے شرکت کی لیکن بی بی سی کے اندازے کے مطابق مظاہرین پچاس ہزار کے قریب تھے۔
اسرائیلی سفارتخانے کو پولیس کی ایک بھاری نفری نے گھیرا ہوا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار رابرٹ ہال کے مطابق مظاہرین کی اتنی بڑی تعداد کے حوالے سےمظاہرہ پر امن رہا۔
’لیکن جیسے ہی اندھیرا چھایا لوگوں کے ایک چھوٹے گروہ نے، جن کی تعداد سینکڑوں میں تھی‘ پولیس سے جھڑپیں شروع کر دیں اور ان پر چیزیں پھینکنا شروع کر دیے۔‘
پولیس نے پندرہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
پیٹروپولیٹن پولیس کے کمانڈر باب براڈہرسٹ نے کہا کہ چند لوگ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کے مقصد کو نقصان پہنچا رہے ہیں، وہ لوگ جو قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں اور پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہ مارچ ’سٹاپ دی وار کولیشن‘، ’برٹش مسلم انیشی ایٹو‘ اور ’پیلسٹائن سولیڈیریٹی کیمپین‘ جیسے گروہوں نے منعقد کروائی تھی۔
مجمع سے خطاب کرنے والوں میں برائن اینو، لندن کے سابق میئر کین لیونگسٹن، اور سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ شری بلیئر کی سوتیلی بہن لورن بوتھ بھی شامل تھیں۔
’سٹاپ دی وار‘ کی تحریک چلانے والی لنڈسے جرمن نے کہا کہ ’ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ (غزہ میں) قتلِ عام ختم کیا جائے اور اسرائیل غزہ اور فلسطین سے نکل جائے۔‘
اس کے علاوہ ایڈنبرا، ابردین، بیلفاسٹ، نیوکاسل اور ساؤتھیمپٹن میں بھی اسرائیل مخالف مظاہرے ہوئے۔