http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 08 January, 2009, 07:00 GMT 12:00 PST

لبنان سے اسرائیل پر راکٹ فائر

غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی کے تیرہویں دن اسرائیل کے شمال میں لبنان کے علاقے سے داغے گئے کٹوشا راکٹ گرنے کے بعد اسرائیل فوج نے لبنان پر جوابی گولہ باری کی ہے۔

اسرائیلی فوج اور پولیس کےحکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ لبنانی علاقے سے اسرائیلی سرزمین پر چار راکٹ پھینکے گئے جن میں سے ایک شمالی اسرائیل کے قصبے نہاریا میں گرا جس سے دو افراد معمولی زخمی ہو گئے۔

فائر بندی کے اصول قبول، مگر جنگ جاری
اسرائیل فائربندی کے اصولوں پر راضامند
سکول پر حملہ چالیس ہلاک
غزہ: اسرائیلی حملوں کا گیارہواں دن
غزہ میں اسرائیلی کارروائی کا دسواں روز
غزہ میں لڑائی اور جانی نقصان

لبنان کے علاقے سے داغے گئے راکٹوں کے جواب میں اسرائیلی توپ خانے نے لبنان پر بمباری کی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ حزب اللہ نے کیا ہے یا پھر اس کے پیچھے لبنان میں سرگرم فلسطینی گروہوں کا ہاتھ ہے۔ لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان راکٹ حملوں کے پیچھے کون ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے اسے خطے میں جاری حالیہ بحران کے لیے ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے مدیر برائے مشرقِ وسطٰی جیریمی بوئن کے مطابق ان راکٹ حملوں سے جنگ کے پھیل جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ غزہ میں ہونے والی کارروائی کہیں شمال میں لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد تک نہ پھیل جائے۔

ادھر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیل کی فضائیہ نے غزہ کی پٹی پر ساٹھ فضائی حملے کیے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں میں حماس کی پولیس کے دفاتر، سرنگوں، ہتھیاروں کے ذخیروں، راکٹ فائر کرنے والی جگہوں اور حماس کے ہتھیار بند کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فضائی حملوں کے علاوہ اسرائیلی فوج اور بحریہ کے توپ خانے سے بھی غزہ پر رات بھر بمباری جاری رہی۔ فلسطینی ذرائع نے کہا کہ فضائی حملوں میں غزہ شہر میں ایک مسجد تباہ ہو گئی۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے جنہیں ہیلی کاپٹروں سے فضائی مدد حاصل تھی خان یونس کے علاقے کی طرف پیش قدمی کی ہے۔

گزشتہ بارہ دنوں سے جاری اس لڑائی میں سات سو کے قریب فلسطینی جن میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل فوج کے گیارہ فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کی سکیورٹی فورسز نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ایک اعلی ترین دفاعی اہلکار آموس گیلاد جنگ بندی کی شرائط طے کرنے کے لیے قاہرہ جا رہے ہیں۔حماس کا ایک وفد بھی مصر کے سفیروں سے متوازی بات چیت کے لیے قاہرہ جانے والا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے رہنما محمود عباس بھی جمعہ کو قاہرہ پہنچ رہے ہیں۔