Wednesday, 07 January, 2009, 12:26 GMT 17:26 PST
اسرائیل نے غزہ پر جاری بمباری میں ہر روز تین گھنٹے کے وقفے کا اعلان کیا ہے۔
بمباری میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے سے چار بجے تک وقفہ کیا جائے گا تاکہ غزہ کے مصائب زدہ شہریوں کے لیے امداد پہنچائی جاسکے۔
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ تین گھنٹے کے وقفے سے لوگوں کو ضروری اشیا خریدنے اور امداد حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔‘
غزہ میں لڑائی رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فوری فائربندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل اور حماس دونوں پر جنگ بندی کے لیے اب دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اہم عالمی قوتوں نے غزہ میں فائربندی کے مصر اور فرانس کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے کہا ہے کہ امریکہ مصر اور فرانس کی طرف سے پیش کیے جانے والے امن منصوبے کے حق میں ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے بھی منصوبے کو خوش آمدید کہا۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کی سفیر گیبری ایلا شلیو نے کہا کہ ان کا ملک فرانس مصر کے منصوبے کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔
گزشتہ رات اسرائیل نے غزہ پر چالیس فضائی حملے کیے۔ بدھ کے روز اسرائیل نے حماس کی جانب سے کسی میزائل حملے کی اطلاع نہیں دی ہے۔
|
اسرائیلی سفیر برطرف
|
آج اسرائیلی کابینہ کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں مصر اور فرانس کی تجویز کے ساتھ ساتھ فوجی آپریشن کا دائرہ بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔
ایک فلسطینی اہلکار کے مطابق حماس کی قیادت ، جو یہ چاہتی ہے کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کر دے، اس منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ اس سے قبل انہیں مصر کے صدر حسنی مبارک نے بریفنگ دی تھی۔
اسرائیل مصر کے راستے غزہ میں اسلحے کی سمگلنگ روکنا چاہتا ہے جبکہ حماس کا مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط بھی شامل ہونی چاہیے۔
اس سے قبل غزہ میں اقوامِ متحدہ کے ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم تیس افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی توپ خانے کی طرف سے داغے جانے والے گولے غزہ میں اس کے زیرِ انتظام ایک سکول کے باہر گرے۔
بان کی مون نے اسرائیل کو غزہ پر بمباری اور حماس کو اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کریں گے۔
اسی دوران وینیزویلا نے اسرائیلی سفیر اور اس کے سفارتخانے کے کچھ عملے کو غزہ پر بمباری کی وجہ سے ملک سے چلے جانے کے لیے کہا ہے۔ وینیزویلا کے صدر ہیوگو چاویز نے اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور غزہ میں اس کی کارروائی کو بربریت قرار دیا۔
فرانس اور مصر کے منصوبے کے تحت محدود وقت کے لیے فائربندی ہو گی تاکہ امدادی سامان غزہ میں پہنچایا جا سکے اور اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے درمیان بات چیت شروع کروائی جا سکے تاکہ لڑائی دوبارہ شروع نہ ہو۔ فرانس کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ اسرائیل بدھ تک اپنا رد عمل ظاہر کر دے گا۔
جبالیہ کے پناہ گزیں کیمپ میں واقع الفالوج سکول میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔قریبی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ یہ سکول اسرائیلی حملے میں براہ راست فائر کا شکار ہوا۔
اس سے قبل ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی آئی سی آر سی نے کہا تھا کہ غزہ کو سنگین ترین انسان بحران کا سامنا ہے۔غزہ میں تنظیم کی سرگرمیوں کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دس روز کی کشمکش کے بعد غزہ میں زندگی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔
اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں کے غزہ میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے حالانکہ ملک کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ محدود تعداد میں صحافیوں کو داخل ہونے دیا جائے۔