http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 05 January, 2009, 09:04 GMT 14:04 PST

مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل

اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ مقاصد کے حصول تک غزہ کے اندر کارروائی جاری رہے گی۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ حماس کو’ شدید دھچکا‘ لگا ہے لیکن اسرائیل اپنے پورے مقاصد کے حصول تک غزہ میں آپریشن جاری رکھے گا۔

غزہ میں حماس کے ایک سرکردہ رہنما محمد ظاہر نے کہا ہے کہ حماس اسرائیل کے خلاف جنگ میں ’فتح‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یورپ غزہ میں امن کے لیے متحرک
اسرائیلی فوج غزہ میں
جارحیت پر احتجاج
غزہ حملے کا ساتواں روز

اسرائیل کی فضائیہ اور زمینی فوج نے دسویں روز بھی غزہ کی پٹی میں آپریشن جاری رکھا ہوا ہے جہاں اس نے عملاً غزہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔

ادھر یورپ کے اعلی سفارت کار جنگ بندی کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ اسرائیل، مصر، شام اور فلسطینی رہنماؤں سے بات چیت کریں گے۔فرانسیسی صدر یورپی یونین کے بھی صدر ہیں۔

ادھر غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغنے کے اکا دکا واقعات ہو رہے ہیں اور سوموار کے روز بھی اسرائیل پر راکٹ داغے گئے۔ اتوار کو بتیس راکٹ جنوبی اسرائیل پر فائر کیےگئے جن سے دو مختلف علاقوں میں تین کل لوگ زخمی ہوئے۔

ادھر یورپی یونین کا اعلی وفد چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ کی سربراہی میں پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔ اس وفد میں یوریی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانا بھی شامل ہیں۔

اتوار کی رات کواسرائیلی کارروائی جاری رہی جہاں اسرائیلی پیدل فوج اور طاقتور بکتر بند گاڑیوں نے عملاً غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

فلسطینی محکمہ صحت نے کہا ہے کہ دس روز قبل شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے بعد پانچ سو نو فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔اس کے مطابق زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد اکہتر لوگ ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پچیس سو لوگ زخمی ہیں۔

ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسرائیل غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں جانے کی اجازت نہیں دے رہا حالانکہ اس کی عدالتِ عظمیٰ نے فیصلہ دیا تھا کہ محدود تعداد میں صحافیوں کو اجازت دی جائے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی زمینی کارروائی میں تقریباً ستر لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا۔

اسرائیل کے صدر شیمون پیریز نے فائر بندی کا مطالبہ مسترد کر دیا لیکن انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا غزہ پر دوبارہ قبضے یا حماس کی تباہی کا ارادہ نہیں۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی ’گھناؤنی جارحیت‘ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کا ایک مشن خطے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ یونین کے خارجہ امور کے سربراہ ہاویر سولانا نے کہا کہ یہ بحران سفارتکاری کی ناکامی کا مظہر ہے۔

امدادی کارروائیاں متاثر
 اسرائیلی گولے سے ایک ساتھی تنظیم کے لیے کام کرنے والا طبی کارکن ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ ہنگامی امداد کے علاوہ اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ معمولی مقدار میں وہ امدادی اشیاء جو اسرائیل علاقے میں لانے کی کبھی کبھار اجازت دیتا ہے زمینی کارروائی کے بعد سے ختم ہو چکی ہیں
 
برطانوی امدادی تنظیم آکسفیم
غزہ میں اتوار کو رات پڑتے ہی غزہ کے زیادہ تر حصے تاریکی میں ڈوب گئے۔ شمالی سرحد پر دھماکوں سے پیدا ہونے والے شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ بندوقوں اور توپوں سے فائرنگ کی مسلسل آواز سنائی دے رہی تھی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دن کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لڑائی غزہ کے شمال سے مغرب میں زیادہ گنجان آباد علاقوں کی طرف پھیل رہی تھی۔

حماس کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر اس کے جنگجوؤں کی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ دست بدست لڑائی ہو رہی ہے، جبکہ اس سے قبل اسرائیل فوج نے کہا تھا کہ شدت پسند اس کے فوجیوں کے قریب آنے کی بجائے مارٹر اور گھریلو بموں پر انحصار کر رہے ہیں۔