یورپ غزہ میں امن کے قیام کے لیے مرکزی کردار ادا کرنے جا رہا ہے اور وہاں سے مشرق وسطیٰ کے لیے دو الگ مشن روانہ کیےجا رہے ہیں جن میں فرانس کے صدر نکولس سارکوزی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ اختیاراتی مِشن اور ایک روسی ایلچی بھی خطےمیں موجود ہے۔
صدر نکولس سارکوزی اسرائیل اور غرب اردن جانے سے پہلے مصر کےصدر حسنی مبارک سے ملاقات کریں گے۔ یورپی رہنما اسرائیلی اور عرب رہنماؤں
کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اڑتالیس گھنٹوں کی فائربندی پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔
بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے فوری نتائج حاصل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اس وقت تک کارروائی روکنے پر تیار نہیں گا جب تک وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔