http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 04 January, 2009, 05:14 GMT 10:14 PST

جیریمی بوئن
بی بی سی ایڈیٹر مشرق وسطیٰ، غزہ-اسرائیل

حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا

یہاں سرحد پر ستاروں بھری رات ہے۔ فضا میں مستقل ہیلی کاپٹروں کا شور ہے۔ سرحد کے اس پار غزہ کی پٹی کے شمال میں مسلسل دھماکوں کی آواز۔ لڑائی کے علاقے میں رہنے والوں کے لیے یہ شور اور خطرہ یقیناً خوف طاری کرنے والا ہوگا۔

اسرائیلی فوجی اس سے پہلے بھی راکٹ حملے روکنے کے لیے غزہ میں داخل ہو چکے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ اس بار ایک ہفتے کی بمباری کے بعد
اسرائیل کا خیال ہے کہ طاقت کا استعمال موثر ثابت ہوگا کیونکہ وہ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ استعمال کی جا رہی ہے۔

غزہ پر ساتویں دن بمباری جاری
دنیا ’سراپا احتجاج‘
جنگ بندی کا عالمی مطالبہ
’فوجی کارروائی غزہ کا دیرپا حل نہیں‘
اسرائیل کے خلاف عالمی مظاہرے
اسرائیل مخالف مظاہرے، ہلاکتیں 428

اسرائیلی فوج کو جانی نقصان کی فکر ہو گی لیکن وہ ایک انتہائی طاقتور، مسلح اور جدید فوج ہے۔ اس کے فوجی 1967 سے ستمبر 2005 تک غزہ پر قابض رہے ہیں اور اس ساحلی علاقے سے اچھی طرح واقف ہیں۔

تاہم جب گنجان آباد علاقوں میں انہیں مشکل پیش آ سکتی ہے جہاں عمارتیں ایک دوسرے کے بہت قریب قریب ہیں۔

ان کی کوشش ہو گی کہ وہ اسرائیلی فوج کو اسی طرح پشیمانی سے ہمکنار کریں جیسا لبنان میں حزب اللہ نے سن دو ہزار چھ میں کیا تھا۔ لیکن تمام تر جذبے کے باوجود وہ شاید حزب اللہ جتنی مزاحمت نہ کر سکیں۔

جنوبی لبنان کے پہاڑی علاقے اسرائیل فوجی گاڑیوں کے لیے رکاوٹ تھے لیکن غزہ ہموار ہے۔ حماس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے مصر کی سرحد کے نیچے بنائی گئی سرنگوں کے ذریعے اسلحہ جمع کر لیا ہے، لیکن یہ اتنی مقدارمیں نہیں ہوگا جتنا حزب اللہ کے پاس تھا۔

اس سب کے باوجود حماس کے کارکن اسلامی دنیا میں ان تمام لوگوں کے ہیرو ہوں گے جنہوں نے اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ کے خلاف مزاحمت کا نظریہ اپنا لیا ہے جو اس خطے کا طاقتور نظریہ ہے۔

حماس کے لیے کامیابی یہ ہو گی کہ وہ اس لڑائی کے بعد بھی اپنی تحریک جاری رکھ سکیں اور اسرائیل کے لیے یہ کہ غزہ سے راکٹوں کے حملے بند کروا دیں۔