http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 03 January, 2009, 21:58 GMT 02:58 PST

اسرائیلی زمینی حملہ روکنے کا مطالبہ

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق اس کی فوج، غزہ پر بمباری کے ایک ہفتے بعد، غزہ میں داخل ہونا شروع ہو گئی ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل سے فوری طور پر فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے غزہ میں کارروائی کی شدت پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت سے فون پر بات کی ہے اور اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔

غزہ پر ساتویں دن بمباری جاری
دنیا ’سراپا احتجاج‘
جنگ بندی کا عالمی مطالبہ
’فوجی کارروائی غزہ کا دیرپا حل نہیں‘
اسرائیل کے خلاف عالمی مظاہرے
اسرائیل مخالف مظاہرے، ہلاکتیں 428

فرانس نے اسرائیلی زمینی کارروائی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لڑائی میں خطرناک تیزی آ رہی ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے لیکن کسی ایسے معاہدے سے حماس کو اسرائیلی علاقوں میں راکٹ فائر کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔

جمہریہ چیک کی حکومت نے، جو اس وقت یورپی یونین کی صدارت کے منصب پر بھی فائز ہے، کہا کہ اسرائیلی کارروائی جارحیت نہیں بلکہ یہ اس نے اپنے دفاع میں کی ہے۔

اسرائیل میں برطانوی سفارتخانے نے کہا کہ جمہوریہ چیک کا بیان ان کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتا۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ لڑائی میں پھیلاؤ سے مایوسی اور تشویش میں اضافہ ہوگا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ حماس نے زمینی کارروائی کے علاوہ اس کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے اس کارروائی کا مقصد ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے جہاں سے فلسطینی شدت پسند اسرائیل پر راکٹ فائر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی کئی ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور ہزاروں ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل سنیچر کو پہلی مرتبہ اسرائیل نے غزہ کے علاقے پر توپخانے سے گولہ باری بھی کی تھی۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور انہیں اس کارروائی کے دوران بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

عینی شاہدوں کے مطابق شمالی غزہ میں چار مقامات سے اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں غزہ میں داخل ہوئی اور انہیں ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد حاصل تھی۔

غزہ کے ساتھ سرحد پر ہزاروں اسرائیلی فوجی سنیچر کے روز موجود تھے۔ نامہ نگاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے توپخانے کے استعمال کو غزہ میں زمینی کارروائی کے آغاز کا اشارہ سمجھا جا سکتا تھا۔

غزہ میں سنیچر کو فضائی حملے جاری رہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق ایک مسجد اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی جس میں تیرہ لوگ ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل حماس پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ مساجد کو اسلحہ چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے لیکن یہ پہلی بار ہے جب نماز کے وقت کوئی مسجد نشانہ بنی۔

سنیچر کے حملوں میں غزہ کے شمال مغرب میں واقع امریکن سکول کی عمارت کا بڑا حصہ بھی تباہ ہوگیا۔ حماس کا بھی کہنا ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب جاری رہنے والے حملوں میں ان کے سینیئر فوجی رہنما ابو زکریا الجمال بھی مارے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی بمباری میں اب تک چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم پچیس فیصد عام شہری ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 428 افراد ہلاک اور دو ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران حماس کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے جنوبی اسرائیل میں چار شہری مارے گئے ہیں۔

دریں اثناء فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما خالد مِشعل نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ پر زمینی حملے کی ہمت نہ کرے۔غزہ کی پٹی پر ایک ہفتے قبل شروع کی جانے والی مسلسل بمباری کے بعد شام کے دارالحکومت دمشق میں مقیم خالد مِشعل نے کہا تھا کہ اگر اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں گھسنے کی کوشش کی تو وہ اپنی بدبختی کو دعوت دیں گے۔

خالد مِشعل نے اسرائیلی فوجیوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ غزہ میں داخل ہوئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے اور انہیں پکڑ لیا جائے گا جیسا کہ دو برس قبل اسرائیلی فوجی گیلاد شالِت کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ’کسے معلوم؟ اگر تم غزہ میں گھسنے کی حماقت کرو گے، جیسا کہ تم ہمیں دھمکا رہے ہو، شاید غزہ میں موجود مزاحمت کے ہاتھ دوسرا، تیسرا، اور چوتھا شالِت آجائے ۔۔۔۔۔ کون جانتا ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حقیقی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہیں جو غزہ کے خلاف جارحیت کا خاتمہ کرے، ناکہ بندی ختم اور تمام راستے کھولنے کی ضمانت دیں۔

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہےاور سنیچر کو بھی مسلم ممالک کے علاوہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔