Saturday, 03 January, 2009, 11:40 GMT 16:40 PST
غزہ میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے اور پہلی مرتبہ اسرائیل نے غزہ کے علاقے پر توپخانے سے گولہ باری بھی کی ہے۔
غزہ کے ساتھ سرحد پر ہزاروں اسرائیلی فوجی زمینی کارروائی کے لیے چوکس کھڑے ہیں اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے توپخانے کے استعمال کو غزہ میں زمینی کارروائی کے آغاز کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔
سنیچر کو کیے جانے حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی طیاروں نے بیت الاہیہ میں ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں نمازِ عصر ادا کی جا رہی تھی۔
سنیچر کے حملوں میں غزہ کے شمال مغرب میں واقع امریکن سکول کی عمارت کا بڑا حصہ بھی تباہ ہوگیا۔حماس کا بھی کہنا ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب جاری رہنے والے حملوں میں ان کے سینیئر فوجی رہنما ابو زکریا الجمال بھی مارے گئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر جارج بش نے حماس کو غزہ اور جنوبی اسرائیل میں جاری تشدد کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس ایک دہشتگرد گروہ ہے جس کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا ہے۔اپنے ہفتہ وار خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ میں ایک ایسا نظام درکار ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ دہشتگرد گروہ ہتھیاروں کی سمگلنگ نہ کر سکیں۔ صدر بش نے کہا کہ ’میں سب پر زور دیتا ہوں کہ وہ حماس پر دباؤ ڈالیں کہ وہ قیامِ امن کے لیے دہشتگردی چھوڑ کر فلسطین کے جائز رہنماؤں کی حمایت کریں‘۔
اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی بمباری میں اب تک چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم پچیس فیصد عام شہری ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 428 افراد ہلاک اور دو ہزار زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران حماس کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے جنوبی اسرائیل میں چار شہری مارے گئے ہیں۔
دریں اثناء فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما خالد مِشعل نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ پر زمینی حملے کی ہمت نہ کرے۔غزہ کی پٹی پر ایک ہفتے قبل شروع کی جانے والی مسلسل بمباری کے بعد شام کے دارالحکومت دمشق میں مقیم خالد مِشعل نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں گھسنے کی کوشش کی تو وہ اپنی بدبختی کو دعوت دیں گے۔
خالد مِشعل نے اسرائیلی فوجیوں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ غزہ میں داخل ہوئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے اور انہیں پکڑ لیا جائے گا جیسا کہ دو برس قبل اسرائیلی فوجی گیلاد شالِت کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ’کسے معلوم؟ اگر تم غزہ میں گھسنے کی حماقت کرو گے، جیسا کہ تم ہمیں دھمکا رہے ہو، شاید غزہ میں موجود مزاحمت کے ہاتھ دوسرا، تیسرا، اور چوتھا شالِت آجائے ۔۔۔۔۔ کون جانتا ہے؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حقیقی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہیں جو غزہ کے خلاف جارحیت کا خاتمہ کرے، ناکہ بندی ختم اور تمام راستے کھولنے کی ضمانت دیں۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہےاور سنیچر کو بھی مسلم ممالک کے علاوہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں بھی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔