Sunday, 28 December, 2008, 14:57 GMT 19:57 PST
بی بی سی کے صحافی اور غزہ کے شہری حمادہ ابو قمر غزہ میں مبینہ حماس ٹھکانوں پر اسرائیل کے فضائی حملوں سے پیدا ہونے والی فضا کے بارے بتاتے ہیں۔
غزہ کی سڑکیں اور گلیاں ویران ہیں اور ان پر کوئی ایک آدھ کار یا گاڑی دوڑتی دکھائی بھی دیتی ہے تو وہ کسی کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جا رہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ روتے دھاڑیں مارتے وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں جو اپنے کسی عزیز کا جنازہ لے جا رہے ہوتے ہیں۔
میں نے ایک شہری سے بات کی اور ایک چودہ سالہ نوجوان سے، یہ دونوں اتوار کی صبح مشرقی غزہ کے ایک پولیس سٹیشن پر کیے جانے والے حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے۔
قدرے بڑی عمر کے آدمی نے بتایا کہ وہ ایک کلینک میں کام کرتا ہے اور کام پر جا رہا تھا کہ اس نے طیاروں کی اواز سنی اور واپس گھرکی طرف پلٹا۔ اسے اس کے بعد کچھ پتا نہیں کیا ہوا۔ اس کے بعد جب اسے ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھا اور اسے ہاتھوں، ٹانگوں اور پیٹ پر زخم آئے تھے۔
نو عمر نوجوان کا سر خون میں لتھڑا ہوا تھا اور اتنی شدید تکلیف میں تھا کہ اسے اپنا نام تک یاد نہیں تھا۔ اسے یہ بھی نہیں پتہ
تھا کہ وہ کہاں ہے اور سائے وہاں کیسے لایا گیا۔
میں نے ایمرجنسی روم میں بھی ایک لڑکے کو دیکھا جس کے سینے میں لکڑی کا بڑا ٹکڑا گھس گیا تھا۔
سنیچر کو بھی میں ہسپتال آیا تھا اور میں نے ہسپتال کے مردہ گھر کو لاشوں سے پٹا ہوا دیکھا تھا۔ یہ وہ لاشیں تھیں جو گلیوں سے اٹھائی گئی تھیں۔ میں ہسپتال میں والدین کو دیکھا جو بچوں کے لاشیں تلاش کر رہے تھے۔
میں نے ہسپتال کی عمارت میں ایک عورت کو ادھر سے اُدھر بھاگتے ہوئے دیکھا، وہ بھاگ رہی تھی اور چلا رہی تھی: ’میرے بیٹے، میرے بیٹے‘۔
آخر ہسپتال کے عملے نے اس کے بیٹے کی لاش کو تلاش کر لیا لیکن انہوں نے عورت کو لاش دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ لیکن میں نے وہ لاش دیکھی۔
وہ ایک بیس سالہ نوجوان کی بے سر لاش تھی۔ اس کا پیٹ بھی پھٹ چکا تھا۔ عورت کچھ دیر تک سفید چادر میں لپٹی ہوئی لاش کو دیکھتی رہی اور پھر اس پر گر کر بے ہوش ہوگئی۔
ہسپتال ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں کی کی آہ و بکا سے گونج رہا تھا۔ اس گری و زاری کے دوران وہ مسلسل یہ کہتے تھے: ’خدا ہماری مدد کرے گا، خدا ہماری مدد کرے گا‘۔