Saturday, 20 December, 2008, 22:24 GMT 03:24 PST
امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی افسر ایڈمرل مائیک مولن نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ موسمِ گرما تک تیس ہزار کے قریب مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے۔
اگر اس منصوبے کو منظوری مل گئی تو افغانستان میں شدت پسندوں سے برسرِ پیکار امریکی افواج کی تعداد دو گنا ہو جائے گی۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین مائیک مولن کا کہنا ہے کہ فی الحال اندازہ یہ ہے کہ افغانستان میں بیس سے تیس ہزار تک مزید فوجی روانہ کیے جائیں گے۔
نئے منصوبے میں مزید امریکی فوج کی افغانستان میں تعیناتی کے نظام الاوقات میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور اب یہ اضافی فوج اگلے برس موسمِ گرما تک وہاں بھیجی جائے گی۔
اس وقت افغانستان میں تقریباً اکتیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے چودہ ہزار فوجی، انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنٹ فورس یعنی ایساف کی زیرِ قیادت نیٹو کی فوج میں شامل ہیں۔
اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے مائیک مولن نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی فوج کی تعداد دگنی کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل مختلف بیانات میں امریکی حکومت نے کہا تھا کہ افغانستان میں بیس ہزار اضافی امریکی فوجی بھیجے جائیں گے۔
اور امریکی وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ امریکہ کو غور کرنا ہوگا کہ اگر اس کے فوجیوں کی تعداد بیس ہزار سے متجاوز ہے تو وہ کہیں افغانستان پر قبضہ کرنے والی فوج نہ کہلائے۔
مائیک مولن کا کہنا ہے کہ بیشتر فوج جنوبی افغانستان بھیجی جائے گی جہاں برطانوی، کینیڈا اور نیدر لینڈ کی فوجیں پہلے سے موجود ہیں جنہیں مزید تقویت ملے گی۔