Sunday, 14 December, 2008, 19:35 GMT 00:35 PST
امریکی صدر جارج بش الودعی دورے پر اچانک عراق پہنچے اور عراقی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
ان کے اس دورے سے ایک ہی روز قبل امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس یہ کہہ چکے ہیں کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
عراقی پہنچتے ہی امریکی صدر کے دورے کا پہلا پڑاؤ بغداد کے گرین زون میں واقع عراقی صدارتی محل تھا جہاں انہوں نے صدر جلال طالبانی سے ملاقات کی۔
صدر طالبانی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ’کام آسان نہیں تھا لیکن امریکی سکیورٹی، عراقی امیدوں اور عالمی امن کے لیے ناگزیر تھا‘۔
عراقی صدر نے اس موقع پر صدر بش کو عراقی عوام کا ایک ایسا عظیم دوست قرار دیا جس نے ملک کو آزاد کرانے میں ان کی مدد کی۔
صدر بش عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے بھی ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران عراق میں امریکی فوجوں کے مستقبل کے بارے میں ایک
معاہدے پر دستخط بھی کیے۔
|
عراق کس حال میں ہو گا
|
امریکی درائع ابلاغ نے اس دوران جنگ کے بعد عراق کے تعمیرِ نو کے بارے میں جو رپورٹیں شائع کی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ بیورکریٹک رکاوٹوں اور عراقی معاشرے کے بنیادی عناصر کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے تعمیرِ نو کا کام مفلوج ہو گیا ہے۔
اس حوالے سے مسودے کی شکل میں ایک رپورٹ ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں گھوم رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب تک تعمیرِ نو کے کاموں پر ایک سو ارب ڈالر یا سڑسٹھ ارب پاؤنڈ خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن اس سے صرف اس نقصان کا کچھ ازالہ ہو سکا ہے کہ جو عراق کی فتح کرنے کے دوران تباہی اور اس کے بعد لوٹ مار سے ہوا۔
صدر بش کا غیر اعلانیہ دورہ انتہائی کڑے حفاظتی انتظامات میں اس معاہدے کے بعد ہو رہا ہے جس میں یہ طے کیا گیا ہے امریکی افواج تین سال کے اندر عراق سے چلی جائیں گی۔ تاہم آئندہ سال بغداد سمیت عراقی شہروں سے ان کی دستبرداری شروع ہو جائے گی۔