http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 04 December, 2008, 07:52 GMT 12:52 PST

تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی

ایشیا کی منڈیوں میں تیل کی قیمت جمعرات کو چھیالیس ڈالر سے بھی نیچے گر کر گزشتہ تین برسوں کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی۔

اس گراوٹ کی بنیادی وجہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں مانگ کی کمی بتائی جاتی ہے اور ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں تیل کی قیمت چالیس ڈالر سے بھی نیچے جاسکتی ہے۔

اس سے قبل اس سطح پر قیمتیں دس فروری دو ہزار پانچ کو دیکھی گئی تھیں۔

سنگاپور کی سیکسو کیپیٹل مارکیٹس سے وابستہ کرسٹوفر مولکے لیتھ کہتے ہیں کہ ’اقتصادی اعداد و شمار خراب حالات کی عکاسی کر رہے ہیں۔ دسمبر کے اواخر تک تیل چالیس ڈالر سے نیچے جاسکتا ہے۔‘

تیل کی قیمتیں جولائی کے مقابلے میں اب تک انہتر فیصد گر چکی ہیں۔ اس وقت ایک بیرل تیل ایک سو سینتالیس ڈالر کا بک رہا تھا۔

ادھر مسلسل گرتی ہوئی قیمتوں سے پریشان تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا اجلاس سترہ دسمبر کو طلب کیا گیا ہے امکان ہے کہ تیل کی پیدوار میں مزید کٹوتی کی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل بھی اوپیک نے تیل کی روزانہ پیداوار پانچ فیصد یا پندرہ لاکھ بیرل کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان جاری رہا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مزید کٹوتی کے باوجود قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مسٹر لیتھ کہتے ہیں کہ ’ میرے خیال میں مستقبل قریب میں اس کا قیمتوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن کم قیمتوں کی وجہ سے تیل کے نئے ذخائر کی تلاش اور ڈرلنگ کے پراجیکٹ متاثر ہوں گے جس سے آگے چل کر سپلائی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔‘