Tuesday, 02 December, 2008, 03:40 GMT 08:40 PST
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ بطور امریکی صدر انہیں اس بات کا سب سے زیادہ پچھتاوا ہے کہ عراقی صدر صدام حسین کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں ان کے جاسوسی ادارے ناکام رہے۔
اپنے اقتدار کے خاتمے سے پچاس روز قبل ایک طویل انٹرویو میں صدر بش نے کہا کہ کاش ان کے جاسوسی اداروں کی اطلاعات مختلف ہوتیں۔
تاہم صدر بش نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ اگر انہیں معلوم ہو جاتا کہ عراق کے پاس کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کا ذخیرہ نہیں ہے تو کیا پھر بھی دو ہزار تین میں وہ عراق پر حملہ کرتے۔
اپنی سب سے بڑی کامیابی کے بارے میں صدر بش کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’نظریاتی دھوکہ بازوں‘ کے خلاف جنگ کی اور امریکہ کو محفوظ رکھا۔
صدر بش بیس جنوری کو عہدہِ صدارت سے علیحدہ ہو جائیں گے اور اقتدار نو منتخب صدر باراک اوباما کو سونپ دیں گے۔
امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو اپنے انٹرویو میں صدر بش نے کہا ’میرے لیے اپنے عہدہِ صدارت کا سب سے بڑا پچھتاوا عراق میں ہمارے جاسوسی اداروں کی ناکامی ہے۔‘
’کاش ہمارے جاسوسی اداروں کی رپورٹیں مختلف ہوتیں۔‘
صدر بش نے حالیہ مالیاتی بحران کے متعلق اپنے اقدامات کا دفاع کیا اور کہا کہ جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو لوگوں کو وال سٹریٹ میں گزشتہ دو سال کے دوران لیے گئے فیصلوں کی اصل حقیقت کا احساس ہو گا۔
صدر بش، جن کی مقبولیت کا گراف اس وقت بدترین سطح پر ہے، نے کہا کہ انہیں اپنے دور کے بارے میں تاریخ کے فیصلہ پر خوشی ہو گی۔
’جب میں قصرِ صدارت سے رخصت ہوں گا تو میرا سر فخر سے بلند ہو گا۔‘