http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 26 November, 2008, 01:26 GMT 06:26 PST

آٹھ سو ارب ڈالر کا نیا پیکج

امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزور نے امریکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے مزید آٹھ سو ارب ڈالر مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ کے وزیر خزانہ ہینری پالسن نے کہا کہ یہ رقم مہیا کرنے کا مقصد صارفین کو قرضوں کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔

مرکزی بینک کی طرف سے فراہم کیے جانے والے مزید آٹھ سو ارب ڈالر میں سے چھ سو ارب ڈالر گھروں کو فراہم کیئے قرضوں یعنی مارٹگیج کی سیکیورٹیز کو خریدا جائے گا اور باقی دو سو ارب ڈالر سے صارفین کو قرضے فراہم کرنے والی مارکیٹ میں موجود انجماد کو ختم کیا جائے گا۔

امریکہ میں مالیاتی ادارے قرضے مہیا کرنے سے ہچکچا رہے ہیں جس سے معیشت مزید سست روی کا شکار ہو رہی ہے۔

مالیاتی بحران کے بد سے بد تر ہونے کی وجہ سے صورت حال مزید خراب ہو رہی ہے۔

دریں اثناء امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ معاشی بحران کی وجہ سے بجٹ میں اصلاحات ناگزیر ہو گئی ہیں۔

ہینری پالسن نے کہا کہ کریڈٹ کارڈ، گاڑیوں اور طالب علموں کو فراہم کیئے جانے والے ضروری قرضے بھی اکتوبر کے مہینے میں تقریباً بند ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تازہ اقدامات کا مقصد ان اہم اور ضروری قرضوں کی دستیابی کو معمول پر لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مشکلات پر قابو پانے میں وقت لگے گا اور اس دوران نئی مشکلات بھی سر اٹھاتی رہیں گی۔

امریکہ کی وزارتِ تجارت کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں امریکی معیشت ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے کمی کا شکار ہوئی ہے۔ ان اعدادوشمار پر تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے انہیں پریشان کن قرار دیا۔

مجموعی مقامی پیدوار اس سال کی تیسری سہ ماہی میں اعشاریہ پانچ فیصد کی سالانہ شرح سے کم ہوئی۔ گزشتہ ماہ کے اندازوں کے مطابق اس میں اعشاریہ تین فیصد کی کمی متوقع تھی۔ یہ کمی صارفین کی طرف سے کم خریدارتی کے رجحان کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

اس نئے پیکج کے تحت جو کہ اس سے قبل فراہم کیئے گئے سات سو ارب ڈالر کے پیکج کے علاوہ ہے مرکزی بینک سو ارب ڈالر کے ان قرضوں کو خرید لے گا جو کہ قرضے فراہم کرنے والے دو اداروں فینی مے اور فریڈی میک نے لوگوں کو فراہم کیئے تھے۔