http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 24 November, 2008, 07:29 GMT 12:29 PST

سٹی گروپ کے لیے پیکج کا اعلان

امریکی حکومت نے دنیا کے بڑے بینک سٹی گروپ کو بچانے کے لیے ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی وزارتِ خزانہ بینک میں حصص کے عوض بیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کرے گی۔

سٹی گروپ مشکل میں

گذشتہ ہفتے اس بینک کے حصص کا بھاؤ آدھے سے بھی کم رہ گیاتھا۔

وزارتِ خزانہ اور فیڈرل ڈپازٹ انشورنس کارپوریشن بینک کے ’خطرناک‘ قرضوں اور ضمانتوں کے لیے 306 بلین ڈالر تک کی گارنٹی دے گا۔

اس منصوبے کا اعلان اس اختتامِ ہفتہ پر بینک اور امریکی وزارتِ خزانے اور فیڈرل ریزرو اینڈ فیڈرل ڈپازٹ کارپوریشن کے درمیان ہہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا۔

سٹی بینک امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا بینک ہے اور دنیا کے ایک سو سات ممالک میں اس کے بارہ ہزار دفاتر ہیں اور اس بینک کے نقصان کا اثر ہر جگہ محسوس کیا جائے گا۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے مالی ادارے کو ناکام نہیں ہونے دیا جانا چاہئے۔

ان تینوں اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی کر کے امریکی حکومت ملک کے مالی نظام کو سنبھالنے اور ٹیکس دہندگان اور ملک کی معیشت کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 سٹی بینک امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا بینک ہے اور دنیا کے ایک سو سات ممالک میں اس کے بارہ ہزار دفاتر ہیں اور اس بینک کے نقصان کا اثر ہر جگہ محسوس کیا جائے گا
 

یہ رقم گذشتہ ماہ تشکیل کیے گئے 700 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ فنڈ سے دی جائے گی۔

اس ہفتے کے دوران سٹی گروپ نے پوری دنیا میں اپنے باون ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ برطرفیاں ان تئیس ہزار کے علاوہ ہیں جن کا بینک پہلے اعلان کر چکا تھا۔

اس طرح پچھتر ہزار برطرفیوں کا مطلب ہے کہ بینک نے اپنا بیس فیصد عملہ کم کر دے گا اور مستقبل قریب میں اس کے دنیا بھرمیں تین لاکھ ملازمین ہوں گے۔

سٹی گروپ کے حصص کی قیمت اس سال کے آغاز سے ہی تیزی سے گری ہے اور جنوری کے مقابلے میں اب وہ اسی فیصد کم قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔

جمعرات کو سعودی شہزادے الولید بن طلال نے سٹی گروپ کے تین سو پچاس ملین ڈالر کے حصص خریدے تھے لیکن اس سے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہوا۔ سرمایہ کاروں کو فکر ہے کہ مزید نقصان بینک کا مستقبل خطرے میں ڈال سکتا ہے۔