Sunday, 23 November, 2008, 22:50 GMT 03:50 PST
فلسطینیوں کی تنظیم حماس کے رہنما خالد مشعل نے غزہ کی ناکہ بندی کے بارے میں عرب ممالک کی خاموشی پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مشعل نے شام کے دارالحکومت دمشق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام عرب ریاستیں کشتیاں بھیج کر غزہ میں لوگ کی تکالیف کم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے غزہ کی ناکہ بندی کو انسانیت سوز اور مجرمانہ قرار دیا۔
مشعل نے خاص طور پر مصر پر تنقید کی کہ اس نے بھی غزہ کے ساتھ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر نے فلسطینی انتظامیہ میں لوگوں کو درپیش شدید مشکلات کے باوجود ایسا کیا ہے۔
دریں اثناء فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اس سال حماس کے ساتھ صلح کی طرف پیش رفت نہ ہوئی تو وہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔
محمود عباس کے عہدے کی مدت نو جنوری کو ختم ہو رہی ہے لیکن انہوں نے پہلے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایک سال مزید اس وقت تک عہدے پر قائم رہیں گے جب تک حماس کی اکثریت والی پارلیمان کی مدت نہیں پوری ہو جاتی۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ نئے سال کے آغاز پر اعلان کریں گے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ نئے انتخابات کب ہوں گے۔
حماس نے محمود عباس کی طرف سے اپنے عہدے کی مدت بڑھانے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں پارلیمان کی مدت کم کرنے کا آئینی یا قانونی حق نہیں۔