Sunday, 16 November, 2008, 17:52 GMT 22:52 PST
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکہ کو مطلوب طالبان رہنما ملا عمر کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہوجائیں تو اُن کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
حامد کرزئی نے پیشکش امریکہ کی جانب سے ملا عمر کی گرفتاری پر یا ان کی گرفتاری میں مدد دینے والے کو کئی ملین ڈالر انعام دیے جانے کے اعلان کے باوجود کی ہے۔
اب تک اس پیشکش پر شدت پسندوں کی جانب کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
طالبان رہنما ملا عمر کو دوہزار ایک میں اس وقت گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا جب افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کی گئی تھی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر عالمی بحث میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ آیا طالبان سے بات چیت افغانستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے یا نہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے دارالحکومت کابل میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر مجھے یہ جواب ملا کہ وہ (ملا عمر) افغانستان آنے یا امن کے لیے بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں تو میں افغان صدر کی حیثیت سے انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا ’اگر میں کہتا ہوں کہ میں ملا عمر کے لیے تحفظ چاہتا ہوں تو اس کے بعد عالمی برادری کے لیے دو راستے ہیں: اگر وہ اتفاق نہیں کرتے تو مجھے ہٹا دیں یا خود چلے جائیں اور دونوں ہی اچھے ہیں‘۔
حامد کرزئی نے مزید کہا ’اگر وہ افغانستان میں امن کی بنا پر مجھے بزور ہٹاتے ہیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔ لیکن اگر انہیں اس سے اتفاق نہیں ہے تو وہ جا سکتے ہیں تاہم ہم ابھی اس مرحلے میں نہیں ہیں۔‘