http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 14 November, 2008, 09:02 GMT 14:02 PST

کساد بازاری کا خوف اور اجلاس

جی ٹونٹی ممالک کی واشنگٹن میں معاشی اجلاس کے لیے روانگی سے قبل یورپی یونین کے اعدادوشمار کے مطابق یورپی معیشت کو کساد بازاری کا سامنا ہے۔

یہ اعدادو شمار بعد میں شائع کیے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پندرہ ممالک کی یورپی یونین میں رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں کساد بازاری آئے گی۔ اس سے قبل دوسری سہ ماہی میں معیشت میں صفر اعشاریہ دو فیصد کمی آئی تھی۔

بی بی سی کے بین شور کا کہنا ہے کہ اگر یہ اعدادوشمار صحیح ہیں تو تین سو بیس ملین لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔

جمعرات کو جرمنی کی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق جرمنی میں معاشی تنزلی شروع ہو گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق تیسری سہ ماہی میں جرمنی کی معیشت میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی آئے گی جبکہ دوسری سہ ماہی میں صفر اعشاریہ چار فیصد کمی آئی تھی۔

 جرمنی کی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق جرمنی میں معاشی تنزلی شروع ہو گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق تیسری سہ ماہی میں جرمنی کی معیشت میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی آئے گی جبکہ دوسری سہ ماہی میں صفر اعشاریہ چار فیصد کمی آئی تھی۔
 

اس کے علاوہ فرانس اور اٹلی بھی جمعہ کو اپنے اعداد وشمار کا اعلان کریں گے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ دو ممالک بھی معاشی کساد بازاری کا شکار ہو گئے ہیں۔

برطانیہ کے سینٹرل بینک نے بدھ کے روز ہی کہہ دیا تھا کہ برطانوی معیشت میں کساد بازاری شروع ہو گئی ہے۔

جی ٹونٹی ممالک واشنگٹن میں مالی بحران پر قابو پانے کے لیے بات چیت کریں گے۔ واضح رہے کہ جی ٹوئنٹی ممالک میں دنیا کی پچاسی فیصد معیشت اور دو تہائی آبادی آباد ہے۔

اس اجلاس سے قبل گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کرنی ہو گی۔

امریکی صدر جارج بش نے نیو یارک میں کہا کہ معاشی استحکام کے لیے نیا نظام مرتب کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

 معاشی استحکام کے لیے نیا نظام مرتب کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
 
صدر بش

جمعرات کو امریکی اعدادوشمار کے مطابق تین اعشاریہ نو ملین افراد بیروزگاری الاؤنس لے رہی ہیں جو کہ پچھلے پچیس سال میں سب سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جی ٹوئنٹی ممالک کو ایک خط میں کہا ہے معیشت کی کساد بازاری کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔ ’اگر لاکھوں افراد کی نوکری ختم ہو جاتی ہے تو یہ صرف معاشی بحران نہیں رہے گا۔‘