Sunday, 09 November, 2008, 13:50 GMT 18:50 PST
دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہ برازیل کے شہر ساؤ پولو میں جمع ہو رہے ہیں تاکہ حالیہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کے حصے کے طور پر ان معیشتوں کے کردار کو بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔
عالمی بینک کے صدر رابرٹ زولک کا کہنا ہے کہ یہ ملک محسوس کرتے ہیں کہ ان کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہو رہا جب ہمیں ایک تاریخی چیلنج کا سامنا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ مالیاتی بحران نے گزشتہ برسوں سے جاری خوراک اور تیل کے بحران کو مزید بڑھایا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سے کوئی ملک نہیں بچے گا ۔۔۔ سارے ملک خطرے کے دائرے میں گردش کر رہے ہیں‘۔
جی بیس میں جی سیون اور بی آر آئی سی (برازیل، روس، انڈیا اور چین) ممالک بھی شامل ہیں اور اس کا درجے وزرائے خزانہ سے بلند کر کے سربراہانِ مملکت اور سربراہانِ حکومت تک کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اکتوبر میں مسٹر زولک نے کہا تھا کہ جی بیس کا نظام خاصا بوجھل ہے۔ اب انہوں نے برازیل میں کہا ہے کہ ملکوں کی ایک نئی گروہ بندی ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جدید ہونے اور کثیرالجہتی نظام اپنانے کی ضرورت ہے تا کہ برازیل جیسے ترقی پزیر ممالک بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔ میرا خیال ہے کہ آئندہ دو سال کے دوران ہم عالمی نظام میں کچھ حقیقی تبدیلیاں دیکھیں گے‘۔
برازیل اور اس جیسے کئی اور ملک محسوس کرتے ہیں کہ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ میں ان کی نمائندگی خاطر خواہ نہیں ہے۔
فرانس اس سے پہلے ہی ترقی پذیر ملکوں کو آٹھ صنعتی ترقی یافتہ ممالک جی ایٹ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کر چکا ہے۔