Monday, 27 October, 2008, 09:52 GMT 14:52 PST
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بارے میں کیئے جانے والے انتخابی جائزوں میں ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما کی واضح اکثریت کے بارے میں کیئے جانے والے دعوؤں کے پس منظر میں ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین اپنی جیت کے بارے میں پرامید ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی مہم بہت خوش اسلوبی سے چل رہی ہے۔
ایک ریلی میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات جیتنے کے لیے وہ لڑائی کے لیے تیار ہیں۔
آئیوا میں میں این بی سی کے پول جائزے کے مطابق باراک اوباما کو اکیاون فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے جبکہ مکین کو چالیس فیصد کی۔
لیکن رائٹرز نے ایک دوسرے جائزے کو جاری کیا ہے جس کے مطابق باراک اوباما کو مجموعی طور پر مکین کے چوالیس فیصد کے مقابلے صرف پانچ فیصد کی ہی برتری حاصل ہے۔
الیکشن سے محض نو روز پہلے این بی سی کی ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مکین نے کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو سبقت حاصل تھی اسے انہوں نے پچھلے ہفتے پورا کر لیا تھا۔
’ان جائزوں میں ہمیں مستقل اتنا پیچھے دکھایا گیا ہے جتنا حقیقت میں ہم نہیں تھے، ہم اچھا کر رہے ہیں۔‘
|
سارہ پیلن کے متعلق
|
جان مکین نے کہا ’ ہم مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور اس وقت جہاں ہیں اس سے کافی خوش ہیں اور جس طرح ہماری انتخابی مہم چل رہی ہے اس پر ہمیں فخر ہے۔‘
اتوار کے روز جان مکین نے آئیوا اور اوہایو میں انتخابی مہم چلائی جبکہ باراک اوباما کلورایڈو میں مصورف ر ہے۔ اوباما نے تبدیلی
پر زوردیتے ہوئے کہا کہ مکین اور جارج بش در اصل ایک ہی ہیں۔
![]() |
|
| اوباما کی برتری برقرار ہے |
ان اطلاعات کے حوالے سے کہ ریپبلیکن پارٹی کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں، جان مکین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ نائب صدر کے لیے اپنی ساتھی سارا پیلن کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا ’میں ان کا دفاع نہیں کرتا ان کی تعریف کرتا ہوں، انہیں دفاع کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘
مکین نے یہ بھی کہا کہ الاسکا کی گورنر، سارا پیلن، کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیداوار جوبائڈن اور باراک اوباما دونوں سے بھی انتظامیہ چلانے کا زیادہ تجربہ ہے۔
’وہ ایک ایسی ڈائنامک شخصیت ہیں جس کے پاس انتظامی امورکا تجربہ، لیڈرشپ اور اصلاحات پائی جاتی ہیں۔ واشنگٹن کو بالکل ایسی ہی شخصیت کی ضرورت ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں کہ اوباما کی طرف سے ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نوے فیصد صدر بش کے ساتھ ووٹ کرتے رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ وہ اور پیلن ان سے مختلف ہیں۔’ یہ صحیح ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کی فلاسفی ہم دونوں ہی کے پاس ہے لیکن میں اپنی پارٹی کے خلاف کھڑا ہوا ہوں، صرف صدر بش کی ہی نہیں دوسروں کی بھی مخالفت کی ہے۔‘
کلوراڈو میں باراک اوباما نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلیکن پارٹی کی مشترکہ پالیسی یہ ہے کہ امیروں کو مزید دیا جائے اور باوجود اس کے کہ امریکی معیشت مندی کا شکار ہے کروڑوں ڈالر جنگ پر خرج کیے جائیں۔
اوباما نے معاشی طور پر متوسط درجے کی مدد کی بات کی اور کہا کہ ان کے صحت، تعلیم اور توانائی سے متعلق منصوبے ایک دو دن میں پورے نہیں ہونگے اور اس کے لیے سب کو محنت کرنے کی ضرورت ہے۔