Friday, 24 October, 2008, 14:47 GMT 19:47 PST
تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کی میٹنگ میں تیل کی روزانہ پیداوار پانچ فیصد کم کرنے کے فیصلے کے باوجود تیل کی قیمت میں گراوٹ کا رجحان جاری ہے۔
اوپیک نے جمعہ کے روز ویانا میں ہونے والے اپنے ہنگامی اجلاس میں تیل کی پیداوار روزانہ پندرہ لاکھ بیرل کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوپیک نے یہ فیصلہ تیل کی گرتی ہوئی قیمت پر قابو پانے کے لیے کیا ہے۔
اوپیک کے اس فیصلے کے باوجود جمعہ کے روز تیل کی قیمت میں گراوٹ جاری رہی۔ امریکہ میں خام تیل کی قیمت چار اعشاریہ آٹھ ڈالر کم ہونے کے بعد ترسٹھ اعشاریہ صفر چار ڈالر پر رہی جبکہ لندن برینٹ کی قیمت چار اعشاریہ چار دو ڈالر کم ہوکر اکسٹھ اعشاریہ پانچ صفر ڈالر پر رہی۔
گزشتہ جولائی میں تیل کی قیمت ایک سوسینتالیس ڈالر فی بیرل پہنچ گئی تھی لیکن تب سے عالمی معیشت میں کسادبازاری کی وجہ سے تیل کی قیمت مسلسل گھٹتی رہی ہے۔
اوپیک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے تیل کی پیداوار کم کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ تیل کی مانگ فراہمی سے کم تھے۔ حالیہ ہفتوں میں تیل کی قیمت اچانک گرنی شروع ہوگئی تھی۔
تیل کی پیداوار کم کرنے کے اوپیک کے فیصلے پر ایک نومبر سے عمل درآمد شروع ہوگا۔ اوپیک کے رکن ممالک کی تعداد تیرہ ہے جو دنیا میں تیل کی کل پیداوار کا چالیس فیصد تیل فراہم کرتے ہیں۔ اوپیک نے کہا ہے کہ صارفین کو جتنی تیل کی ضرورت ہوگی اتنی فراہمی جاری رہے گی۔
اوپیک کا اجلاس نومبر میں ہونا تھا تاہم تیل کی گرتی ہوئی قیمت کے مد نظر یہ اجلاس جلد بلا لیا گیا۔ تیل کی قیمت سولہ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پیداوار کم کرنے سے صارفین کے لیے تیل دوبارہ مہنگا ہو جائے گا۔
اوپیک کے کئی رکن ممالک کا کہنا ہے کہ تیل کی گرتی قیمت کو روکنے کے لیے پیداوار کم کی جائے۔ وینیزویلا کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار اوپیک کی پیداوار کے تین فیصد کے برابر کم کی جائے جبکہ ایران اس سے دو گنا زائد کمی کا کہہ رہا ہے۔
بی بی سی کے اینڈریو واکر کا کہنا ہے کہ ان دونوں ممالک کو تیل کی قیمت میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ ایران کی معیشت کا دارومدار تیل کی فروخت پر ہے اور اس کی قیمت میں ایک ڈالر کی کمی سے ایران کو ایک بلین ڈالر آمدن کا نقصان ہوتا ہے۔
تاہم جمعرات کو سعودی وزیر برائے تیل علی النعیمی نے کہا کہ وہ اس مسئلے میں نہیں الجھیں گے اور تیل کی قیمت بازار ہی طے کرے گا۔ اوپیک کے صدر چاکب خلیل نہ کہا: ’اجلاس کے فیصلے سے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک ان ممالک کا ساتھ دیں جو معاشی بحران کا شکار ہیں۔‘