http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 21 October, 2008, 12:00 GMT 17:00 PST

برجیش اپادھیائے
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، واشنگٹن

امریکہ کی ڈوبتی معیشت و مکین

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں اب زیادہ دن باقی نہیں اور جیسا کہ اندازہ تھا معیشت اب وہاں سب سے اہم انتخابی موضوع بن گئی ہے۔

چند ہفتے قبل تک رپبلکن امیدوار جان مکین اور ڈیموکریٹک امیدوار براک اوبامہ انتخابی دوڑ میں برابری پر تھے۔ لیکن جیسے جیسے اقتصادی بحران گہرا ہوتا جاتا رہا ہے براک اوبامہ کی پوزیشن بہتر ہوتی جا رہی ہے۔

وجہ بالکل صاف ہے۔ جان مکین ریپبلکن امیدوار ہیں اور گزشتہ آٹھ برس سے ریپبلکنز کی حکومت رہی ہے ۔اوبامہ نے اپنی انتخابی مہم میں یہ دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کہ مکین اور صدر بش میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صدر بش کی مقبولیت ان دنوں مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔

بازار تو پہلے بھی چڑھتے گرتے رہے ہیں ۔ اس بار ایسا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے انتخابی ہوا کا رخ بدل گیا ہے؟

کوئی بھی ٹی وی چیینل دیکھیں، کوئی بھی اخبار اٹھا لیں، اس کا جواب صاف نظر آتا ہے۔ وال سٹریٹ کی مار عام آدمی پر پڑ رہی ہے۔

کسی کے پاس کام کم ہو گیا ہے تو وہ بچت نہیں کر پا رہا ہے اور اسے یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر یہی حال رہا تو وہ کبھی اپنا گھر نہیں خرید سکے گا۔

کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس اپنا گھر تو ہے لیکن ڈر اس بات کا ہے کہ وہ چھن جائے گا اور بال بچوں کے ساتھ وہ سڑک پر آجائیں گے۔ لوگوں کا یقین حکومت سے اٹھ چکا ہے اور گبھراہٹ اس بات کی بھی ہے بینکوں میں جو تھوڑے بہت پیسے انہوں نے جمع کیے ہیں کہیں وہ بھی نہ ڈوب جائیں۔

پاکستان سے امریکہ آکر بسنے والے صغیر طاہر ریپبکلکن ٹکٹ پر صوبائی انتخابات میں کھڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جب وہ انتخابی مہم میں جاتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ جان مکین کیوں مشکل میں ہیں۔

وہ کہتے ہیں’ کئی لوگ ایسے ملتے ہیں جو رونے لگتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سخت محنت کی ہے اور عزت کی زندگی گزاری ہے اور اب بڑھاپے میں انہیں سب کچھ لٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔‘

بڑے بڑے سپر سٹورز خالی نظر آتے ہیں ۔ خریدار بس ضرورت بھر کی چیزیں خرید رہے ہیں ۔ کیوں کہ انہیں ڈر ہے شاید اور برے دن آنے والے ہیں۔

اور اس ماحول میں جان مکین پوری کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں اور ان کی پالیسی کو صدر بش کی پالیسی سے الگ رکھ کر دیکھا جائے۔ بلکہ اوبامہ سے صدارتی بحث میں بھی وہ اس معاملے پر وہ کافی ناراض نظر آئے۔

انہوں نے کہا ’میں بش نہیں ہوں ۔ اور اگر آپ کو بش کے خلاف لڑنا تھا تو چار برس پہلے انتخابات میں کھڑا ہونا تھا۔‘
انتخابات کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے

اپنی دلیلوں میں وہ سبھی کے لیے ٹیکسوں میں کٹوتی کی بات کر رہے ہیں۔ جس سے کہ بڑی کمپنیاں مزید ملازمتین دے سکیں اور لوگوں کی جیب میں پیسہ آئے۔ ساتھ ہی انہوں نے پلان کیا ہے کہ جس سات سو ارب ڈالر کے پیکیج کو ابھی منظورکیا گیا ہے اس میں سے تین سو ارب ڈالر سے سیدھے ان لوگوں کے قرضے خرید لیے جائیں گے جو انہیں ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔

باراک اوبامہ کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کی براہ راست مدد کرنے کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق مکین کے فیصلے سے بینکوں کو ہی فائدہ پہنچے گا، عام لوگوں کو نہیں۔

مکین کی مشکل یہ بھی ہے کہ عوام معیشت کے معاملے میں اوبامہ پر زیادہ یقین کر رہے ہیں۔ ان تک یہ پیغام پہنچ رہا ہے کہ ریپبلکنز صرف بڑے بڑے بینکوں اور پیسے والوں کو بچائیں گے، عام آدمی کو نہیں۔

اور ایسے میں مکین بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ یا تو خارجہ پالیسی سے متعلق کوئی بڑا معاملہ آجائے یا ملکی سلامتی کا موضوع اچانک سرخیاں بن جائے۔ کیونکہ ان معاملوں پر وہ اوبامہ پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔ یا پھر اوبامہ کے بارے میں کوئی گڑا مردہ سامنے آجائے کہ لوگ ان سے منھ پھیر لیں۔

دقت بس یہ ہے کہ انتخابات کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے ۔