http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 21 October, 2008, 03:10 GMT 08:10 PST

برطانوی ادارے کی کارکن قتل

برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک خیراتی ادارے کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون کو منگل کے روز کابل یونیورسٹی کے قریب گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

چونتیس سالہ گیل ولیمز کے پاس برطانیہ اور جنوبی افریقہ کی دوہری شہریت تھی۔ عینی شاہدوں کے مطابق انہیں کابل میں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ہلاک کیا۔

طالبان کے بارے میں اطلاع ہے کہ انہیں نے خاتون کو ہلاک کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے ’کہ وہ ایک مسیحی تنظیم (سرو افغانستان) کے لیے کام کر رہی تھیں۔‘

سرو افغانستان کا برطانیہ کے باہر عملہ رضا کاروں پر مشتمل ہے جس کی توجہ تعلیم اور معذور افراد کو تربیت دینا ہے۔ مس ولیمز کی پروش جنوبی افریقہ میں ہوئی لیکن انہوں نے اپنی عمر کا ایک طویل عرصہ برطانیہ میں بسر کیا۔

اگست کے مہینے میں طالبان نے کابل میں تین خواتین کو ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق مس ولیمز کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ پیدل چل کر اپنے دفتر جا رہی تھیں۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو افراد مس ولیمز کے قریب آ کر رکے۔ ایک شخص نے موٹرسائکل سے اتر کر انہیں انتہائی قریب سے چھ گولیاں ماریں۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کچھ گولیاں ان کے جسم پر اور کچھ ان کی ٹانگوں پر لگیں اور جب پولیس موقع پر پہنچی تو مس ولیمز ہلاک ہو چکی تھیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ مسلح افراد نے کابل میں کسی غیر ملکی کو ہلاک کیا ہے۔ لیکن اس واقعہ سے افغانستان کی سکیورٹی کی حالت کے بارے میں مزید تشویش پیدا ہوگی۔

گزشتہ ہفتے جنوبی شہر قندھار میں تین ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں قاتل موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔

مس ولیمز کچھ عرصہ قبل تک قندھار میں تھیں لیکن جب وہاں حالات زیادہ خطرناک ہوئے تو وہ کابل چلی گئیں۔