Saturday, 18 October, 2008, 15:33 GMT 20:33 PST
امریکی شہریوں کو ہر چار برس بعد ٹیلی ویژن پر صدارتی مباحثوں کی شکل میں ایک دلچسپ کھیل تماشہ مِل جاتا ہے۔ ان مباحثوں میں صدارت کے حریف امیدوار اپنا نقطہء نظر پیش کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہی صدارت کے بہترین امیدوار ہیں اور اگر قوم کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانا ہے تو بس خاموشی سے ان کے نام پر مہر لگا دیجئے۔
یہ سب ہنگامہ یوں تو اِس مرتبہ بھی ہوا لیکن وہ سرگرمی اور جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جو ماضی میں ان مباحثوں کا خاصہ رہا ہے۔
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
خصوصاً پہلے دو مباحثے تو بالکل ہی غیر دلچسپ اور روکھے پھیکے رہے۔ اوّلین مباحثے سے پہلے تو صورتِ حال اتنی غیر واضح تھی کہ ریپبلکن امیدوار جان مکین نے اپنے مدّمقابل کو مشورہ دیا کہ جب تک مالیاتی بحران سے نمٹنے کےلئے سرکاری امداد کا اعلان نہیں ہوجاتا، مباحثہ موّخرکردیا جائے، لیکن مباحثہ ملتوی نہ ہوا اور جان مکین کو ڈیموکریٹک امیدوار باراک اوباما کے رو برو ہونا پڑا۔
یہ الگ بات ہے کہ مالیاتی مسئلے کا کوئی حل دونوں امیدواروں کے پاس نہیں تھا۔ جہاں تک اِسٹائل کا تعلق ہے تو صدارتی مباحثوں میں جان مکین ایک سنجیدہ اور تجربہ کار سیاست دان کے طور پر سامنے آئے لیکن ان کا انداز اتنا محتاط اور نپا تُلا تھا کہ عوام الناس اُس سے زیادہ محظوظ نہ ہوسکے، جبکہ باراک اوباما نے نسبتاً ایک ہلکا پھلکا اور عوامی انداز اپنایا۔
نائب صدارت کی امیدوار سارہ پیلن نے بھی لوگوں کی توقع سے کہیں بہتر کارکردگی دکھائی اور اپنے ٹیلی ویژن انٹرویوز کے برعکس ایک زِیرک اور معاملہ فہم خاتون کے طور پر اپنا تاثر قائم رکھنے میں کامیاب رہیں۔
تیسرے اور آخری مباحثے میں باکسنگ کے فائنل راؤنڈ کی طرح کافی جوش و خروش در آیا تھا اور دھیمے انداز والے بزرگ امیدوار جان مکین نے حزم و احتیاط کے خول سے نکل کر خود سے پچیس برس چھوٹے مدمقابل باراک اوباما کو کھری کھری سنا دیں اور حاضرین کو اس امر پہ قائل کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ باراک اوباما سوشلسٹ خیالات رکھتے ہیں اور یہ دولت کی مساویانہ تقسیم کا جھانسہ دیکر آزاد مسابقے اور اِنفرادی خوشحالی کے امریکی خواب کو چکنا چور کردینا چاہتے ہیں۔
اِن مباحثوں کے دوران امیدواروں سے زیادہ شہرت شاید
Joe the Plumber
کو حاصل ہوئی۔ اس شخص نے انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما سے پوچھا کہ اُس جیسے کاریگر جو دِن رات محنت کر کے پیسہ کماتے ہیں
اور اپنی محنت کی کمائی پر خوشحال طریقے سے زندہ رہنا چاہتے ہیں، ان پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر اُن کی خوشحالی کو کم کرنا کہاں
تک جائز ہے۔
باراک اوباما نے تو اسکا جو جواب دیا سودیا لیکن اُن کے ریپبلکن حریف جان مکین کے ہاتھ ایک اچھا موضوع آگیا اور انھوں نے اس شخص کو امریکہ کے محنت کش طبقے کی علامت بنا کرحاضرین سے کہنا شروع کردیا کہ اگر باراک اوباما صدر بن گئے تو ایسے لوگوں کی شامت آجائے گی۔
امیروں پر ٹیکس بڑھانے اور غریبوں کی سرکاری امداد جاری رکھنے کا موضوع ہر چار برس کے بعد امریکی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتا ہے اور اس مرتبہ بھی صدارتی بحث کے دوران اسکا بھرپور چرچا رہا لیکن مالیاتی اداروں کے بحران نے اس بحث کو روائتی ڈگر سے ہٹا کر ایک ہنگامی رنگ دے دیا تھا۔