Thursday, 16 October, 2008, 01:55 GMT 06:55 PST
امریکی حکومت کے اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے حالیہ اقدامات کے باوجود عالمی کساد بازاری کا خدشہ حصص بازاروں کو متاثر کر رہا ہے اور امریکہ کے بعد ایشیا کے حصص بازاروں میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے۔
امریکی شیئرز کی قیمتوں میں آٹھ فیصد کمی کے بعد شروع کی ٹریڈنگ میں جاپان کی نکی انڈکس دس فیصد گر گئی اور آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے حصص میں پانچ فیصد کمی آئی۔
ڈاؤ جونز انڈکس 733 پوائنٹس گرنے کے بعد 8577 پوائنٹس پر آ گئی۔ یہ 26 اکتوبر 1987 کے بعد سے سے بڑی کمی ہے۔
اس سے قبل یورپی منڈیوں میں بھی مندی دیکھنے میں آئی۔ لندن سات فیصد گرا جبکہ فرینکفرٹ اور پیرس میں چھ فیصد کمی آئی۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین بن برنانکی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی معیشت کو اب کریڈٹ کرائسس کا واضح خطرہ ہے۔
دریں اثناء وزیرِ خزانہ ہینری پالسن نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ نومبر کے انتخابات کے بعد نئی امریکی انتظامیہ کا حصہ نہیں ہوں گے۔
وال سٹریٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہینری پالسن کریڈٹ کرائسس کے بحران میں چلے جائیں گے۔
بہت سے سرمایہ کار اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ اگر امریکی معیشت کساد بازاری کا شکار نہیں ہوئی تو یہ اسی طرف جا رہی ہے۔
دوسری طرف امریکہ میں مالی خسارہ نئی حدوں کو پار کرتا ہوا چار سو پچپن ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو ماہرین کے مطابق اس بات کا عکاس ہے کہ امریکی معیشت کی حالت بدستور خراب ہو رہی ہے۔
بہت سے ماہرین کافی عرصے سے اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے۔
دنیا کی امیر ترین قوموں رہنماؤں (جی ایٹ) نے کہا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے عزم پر متحد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مطلوبہ اصلاحات بھی اپنے اپنے ملکوں میں کریں گے تاکہ اس قسم کا مالیاتی اور بینکاری بحران دوبارہ پیدا نہ ہو۔
اگرچہ یہ بیان امریکی صدر کی جانب سے جاری ہوا لیکن اس کی بازگشت یورپی یونین کے رہنماؤں کی جانب سے سنائی دی جو برسلز میں موجود ہیں۔
دریں اثناء جی ایٹ کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ دوسرے ممالک کے ساتھ عالمی اقتصادی بحران پر مذاکرات کیے جائیں۔
اس سے قبل برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی تعمیرِ نو کی جائے تاکہ عالمی اقتصادی نظام کو ریگولیٹ کیا جائے۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جین او برائن لکھتے ہیں کہ اگرچہ بڑے صنعتی ممالک کے رہنما اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ وہ مالیاتی استحکام اور خوشحالی دوبارہ سے بحال کر لیں گے مگر مالیاتی منڈیاں کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں۔