Monday, 13 October, 2008, 10:32 GMT 15:32 PST
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے ایک تازہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوبامہ کو ریپبلکن پارٹی کے جان مکین پر دس پوائنٹ کی سبقت حاصل ہوگئی ہے۔
سروے کے مطابق بارک اوبامہ کو ترپّن فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے جبکہ جان مکین کے حامی صرف تینتالیس فیصد لوگ ہیں۔
تازہ سروے اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ نے جاری کیے ہیں جس کے مطابق بیشتر افراد میں معاشی بحران پر تشویش پائی جاتی ہے۔
سروے کے مطابق سنہ انیس سو چھتیس سےانتخابات سے پہلے پول میں کوئی بھی امیدوار اتنا پیچھے رہ جانے کے بعد آ گے نہیں نکل سکا ہے۔
پول میں حصہ لینے والے دس میں سے نو افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ملک کی معاشی حالت کے رخ پرگہری تشویش ہے جبکہ دس میں سے سات نے خود اپنے خاندان کی معاشی حالت پر تشویش ظاہر کی۔
اس سروے میں پچپن فیصد لوگوں نے اقتصادیات کو انتخابات کا سب سے اہم موضوع بتایا۔ بینکنگ شعبے میں بحران کے سبب صرف چوالیس فیصد امریکی ہی اب ایسا سوچتے ہیں کہ اب بھی ملک کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ بآسانی ریٹائر ہوسکتے ہیں۔ جبکہ تین برس قبل ایسا سوچنے والوں کی تعداد انہتر فیصد تھی۔
جائزے میں رائے دہندگان نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ انہیں باراک اوباما کی قیادت سے توقع ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی سے انہیں نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔
رجسٹرڈ رائے دہندگان میں سے سینتیس کے مقابلے ترّپن فیصد نے اقتصادی معاملات سے نمٹنے میں اوبامہ کو مکین پر ترجیح دی۔ تقریباً نوے فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ملک کی پالیسیاں غلط سمت میں ہیں۔
درین اثنا موجودہ صدر جارج بش کی مقبولیت میں ریکارڈ گرواٹ درج کی گئی اور اب ان کی ریٹنگ صرف تیئس فیصد ہی رہ گئی ہے۔ یہ سابق صدر رچرڈ نکسن سے بھی کم تر درجے کی ریٹنگ ہے جنہیں سنہ انیس سو چوہتر میں واٹر گیٹ سکینڈل کے سبب استعفٰی دینا پڑا تھا۔ پول کے مطابق تہتر فیصد لوگوں نے صدر بش کو ناپسند کر دیاہے۔