Monday, 13 October, 2008, 07:31 GMT 12:31 PST
ورلڈ بینک کے سربراہ رابرٹ زولیک نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی بحران انسانی پیدا کردہ ناگہانی آفت ہے اور عالمی مالیاتی ادارے اس بحران میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں گے۔
واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے سربراہ سٹراس ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ بینک کے سربراہ نے کہا کہ دنیا کےمالیاتی بازار غیر معمولی اتھل پتھل کا شکار ہیں اور ترقی پذیر ممالک خوراک اور توانائی کی قیموں میں بے انتہا اضافے کی وجہ سے پہلے ہی مشکل کا شکار ہیں اور اگر مالیاتی اداروں کی طرف سے قرضوں کی فراہمی کو روک دیا گیا یا اس میں کمی کر دی گئی تو یہ بحران انتہائی بری شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مالیاتی بحران انسان کی پیدا کردہ ناگہانی آفت ہے اور اس بحران سے نکلنے کا راستہ بھی انسان کے ہاتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب مالیاتی بحران سامنے آیا تو امریکہ اور یورپ میں لوگ پہلے ابہام کا شکار ہوئے۔ ’یہ ابہام میں غصے میں بدلہ اور اب یہ خوف میں بدل گیا۔‘
ادھر یورپی ممالک میں مالیاتی بحران بڑھتا جا رہا ہے اور برطانیہ نے اپنے چار بڑے بینکوں میں سینتیس ارب پونڈ کے اثاثے خریدنے فیصلہ کر لیا ہے۔
برطانوی بینکوں میں اثاثے خریدنے کا فیصلہ اتوار کو یورپی ممالک کی پیرس میں ہونے والی سربراہ کانفرنس کے بعد کیا گیا جس میں مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے یورپ کی مشترکہ حکمت اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
عالمی رہنماؤں کی مالیاتی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کا ایشیائی حصص بازاروں میں ملا جلا ردِ عمل رہا ہے۔
آسٹریلیا، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور سنگاپور کی سٹاک مارکیٹوں میں صبح کے کاروبار میں شیئرز اوپر رہے تاہم تائیوان اور شینگھائی کی اہم مارکیٹیں نیچے رہیں۔ ٹوکیو کی منڈی چھٹی کے باعث بند رہی۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ کسی بھی بڑے بینک کو ناکام نہیں ہونے دیں گے۔
یورپی یونین کے یورو بلاک کے 14 رہنماؤں اور برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے پیرس میں اتوار کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نئے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مزید حکومتی اقدامات سے بینکوں کو قرضہ دینے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور اس طرح بینکوں کے معاملات بحال ہو سکیں گے۔
فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ 15 یورپی ممالک کی حکومتیں پانچ سال کے لیے انٹربینک نئے قرضوں کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہو گئی ہیں۔
ان رہنماؤں نے کسی خاص رقم کا وعدہ تو نہیں کیا لیکن فرانس کے صدر سرکوزی کا کہنا ہے کہ آج یعنی پیر کو تمام رکن ممالک اپنے اپنے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم کیون رڈ نے بھی کہا ہے کہ اگلے تین سال تک ان کی حکومت تمام بینک ڈپازٹس کی گارنٹی دے گی چاہے وہ جتنے بھی بڑے ہوں۔
اختتامِ ہفتہ کو جی سیون کے وزرائے مالیات نے بھی بحران سے نمٹنے کے لیے پانچ نکاتی ریسکیو پیکج کا اعلان کیا تھا۔